یمن میں حوثی فورسز اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی دستوں کے درمیان نئی جھڑپوں میں کم از کم 81 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اے ایف پی کو معلومات دینے والے فوجی اور طبی ذرائع کے مطابق لڑائی تین ستمبر 2026 کو ساحلی علاقوں کے قریب زمینی حملے، راکٹوں اور ڈرون کارروائیوں کے بعد شروع ہوئی، جبکہ حوثی دستے بحیرہ احمر کے اہم آبنائے باب المندب سے ملحق علاقوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق ساحلی محاذ پر ایک حکومتی فوجی افسر نے اپنے 24 اہلکاروں کی ہلاکت بتائی، جبکہ تعز کے علاقے میں دوسرے افسر نے 15 فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاع دی۔ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے طبی ذرائع نے کم از کم 42 حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر دی۔ یہ مجموعہ 81 بنتا ہے، تاہم اعداد کا بنیادی انحصار متحارب علاقوں کے فوجی اور طبی ذرائع پر ہے اور آزادانہ، مقام وار تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی حملے کا مقصد حکومتی کنٹرول والے بندرگاہی شہر مخا کا زمینی رابطہ محدود کرنا اور باب المندب سے ملحق خطوں تک پہنچنا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ حوثی دستوں نے بحیرہ احمر، ساحلی قصبے خوخہ اور اندرون ملک تعز کے قریب حکومتی پوزیشنوں پر نظر رکھنے والے بعض بلند مقامات حاصل کرلیے ہیں۔ ان مقامات پر کنٹرول کی مکمل حدود اور میدان جنگ کی تازہ صورت حال کی آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔
عدن میں موجود یمنی حکومتی عہدیدار نے کہا کہ حوثی پہلے باب المندب اور مخا پر نظر رکھنے والی پہاڑیوں کو قابو میں لینا چاہتے ہیں اور اس کے بعد ساحل کی طرف حملہ بڑھا سکتے ہیں۔ حکومت نے تعز کے لیے عدن سے مزید کمک بھیجنے کی اطلاع دی ہے۔ دوسری طرف حوثی حکام کا تفصیلی ردعمل یا ان کی اپنی ہلاکتوں کا سرکاری بیان رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
باب المندب ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر اور نہر سویز کے راستے بحیرہ روم کو بحر ہند سے ملاتی ہے۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت پہلے ہی بہت زیادہ ہے، جبکہ خلیج سے تیل کی نقل و حرکت میں رکاوٹوں کے باعث متبادل بحری راستوں پر دباؤ نے اسے مزید حساس بنادیا ہے۔ بلند ساحلی مقامات سے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت سے متعلق خدشہ فوجی ذرائع نے ظاہر کیا، یہ کوئی تصدیق شدہ تازہ حملہ نہیں۔
حوثی یمن کے دارالحکومت صنعا اور شمالی و مغربی علاقوں کے بڑے حصے پر قابض ہیں، جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت عدن سے کام کرتی ہے۔ حوثیوں کے پاس مخا کے شمال میں حدیدہ کی اہم بندرگاہ ہے، لیکن رپورٹ کے وقت وہ باب المندب سے براہ راست ملحق زمینی علاقوں پر قابض نہیں تھے۔ جولائی میں کمزور جنگ بندی ختم ہونے کے بعد فریقین کے درمیان حملوں میں اضافہ ہوا۔
حوثیوں نے 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد بحیرہ احمر میں گزرنے والے جہازوں پر متعدد حملے کیے اور بعد میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دعوے بھی کیے۔ تازہ زمینی لڑائی کو اسی وسیع علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے، مگر ہر فوجی دعوے اور ہلاکت کے عدد کو متعلقہ ذریعے کی نسبت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔
چار ستمبر تک تصدیق شدہ صحافتی تصویر یہ ہے کہ شدید لڑائی ہوئی، دونوں جانب بڑی جانی نقصان کی اطلاعات آئیں اور حکومتی کمک تعز کی طرف بھیجی گئی۔ باب المندب یا مخا کے کنٹرول میں کسی حتمی تبدیلی کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے واقعے کو جاری فوجی پیش قدمی اور متنازع محاذی دعوؤں کے طور پر بیان کیا جانا چاہیے، نہ کہ مکمل علاقائی قبضے کے طور پر۔




