شبوہ: یمن کے جنوبی صوبہ شبوہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے ایک تربیتی کیمپ پر حوثی تحریک کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 73 ہو گئی ہے۔ صوبائی میڈیا دفتر نے منگل کو تازہ اعداد جاری کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے بعد 14 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

رائٹرز کے مطابق حملہ پیر کو ہوا تھا اور ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کم بتائی گئی تھی۔ بعد میں زخمیوں اور متاثرہ مقام سے ملنے والی معلومات کے باعث سرکاری اعداد میں اضافہ ہوا۔ جنگی حالات میں ہلاکتوں کے اعداد اکثر مرحلہ وار تبدیل ہوتے ہیں، اس لیے موجودہ تعداد صوبائی حکام کی تازہ رپورٹ کی عکاسی کرتی ہے۔

حملے کا نشانہ یمنی حکومت سے وابستہ سکیورٹی فورسز کا تربیتی مرکز بتایا گیا ہے۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب یمن اور وسیع تر خطے میں حوثی فورسز اور ان کے مخالف دھڑوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شبوہ تزویراتی اہمیت کا حامل صوبہ ہے اور ماضی میں بھی مختلف مسلح گروہوں اور حکومتی فورسز کے درمیان کشمکش کا میدان رہا ہے۔

صوبائی میڈیا دفتر کی جانب سے 14 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع کے باعث جانی نقصان میں مزید تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ امدادی اور سکیورٹی اداروں کے لیے متاثرہ مقام پر لاپتہ افراد کا سراغ لگانا اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا فوری ترجیح ہے۔ دستیاب رپورٹ میں تمام متاثرین کی انفرادی شناخت یا زخمیوں کی مکمل تازہ تعداد جاری نہیں کی گئی۔

یمن ایک طویل جنگ اور سیاسی تقسیم کا سامنا کر رہا ہے، جس نے ریاستی اداروں، بنیادی ڈھانچے اور انسانی امداد کے نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ حالیہ حملہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ مختلف محاذوں پر وقفے وقفے سے ہونے والی شدید کارروائیاں اب بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس خبر میں حملے اور ہلاکتوں کی ذمہ داری سے متعلق تفصیل رائٹرز اور شبوہ کے صوبائی میڈیا دفتر کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ کسی بھی متنازع فوجی دعوے، ہدف کے انتخاب یا حملے کے جواز کو فریقین کے موقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، جبکہ آزادانہ تحقیقات سے مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔