حیدرآباد: سندھ حکومت نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن حیدرآباد کے بارہویں جماعت کے 2026 کے سالانہ امتحانی نتائج میں مبینہ ردوبدل اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ صوبائی وزیر جامعات و بورڈز اسماعیل راہو کے حکم پر بورڈ کی ٹاپ سیکرٹ برانچ کے ڈپٹی کنٹرولر اعجاز علی کاکا کو بھی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سوشل میڈیا پر پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس کے نتائج سے متعلق الزامات سامنے آنے کے بعد صوبائی حکومت نے معاملے کا باضابطہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انکوائری کا مقصد الزامات کی حقیقت معلوم کرنا، ممکنہ ذمہ داری کا تعین کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ آیا کسی افسر یا ملازم نے نتائج میں غیر قانونی مداخلت کی۔

تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی سندھ یونیورسٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس جامشورو کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اربیلہ بھٹو کریں گی۔ کمیٹی میں محکمہ جامعات و بورڈز کے ایڈیشنل سیکرٹری امیر فضل اویسی اور مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو کے رجسٹرار ڈاکٹر نصراللہ پیرزادہ بھی شامل ہیں۔

کمیٹی کو 30 روز کے اندر صوبائی وزیر کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحقیقات میں 2026 کے بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانی نتائج کا جائزہ لیا جائے گا، بالخصوص پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس میں پوزیشن ہولڈرز، ٹاپ ٹین امیدواروں اور اے ون و اے گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ کے ریکارڈ پر توجہ دی جائے گی۔

اعجاز علی کاکا کی معطلی ایک انتظامی اقدام ہے اور اسے کسی جرم یا بے ضابطگی کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے یا کسی دوسرے اہلکار کے خلاف ذمہ داری کا تعین انکوائری کے شواہد اور بعد کی قانونی یا محکمانہ کارروائی کے ذریعے ہوگا۔ اس مرحلے پر حکومت نے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا۔

امتحانی نتائج کی ساکھ طلبہ کے اعلیٰ تعلیم میں داخلوں اور میرٹ پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے، خصوصاً میڈیکل اور انجینئرنگ پروگراموں میں جہاں چند نمبروں کا فرق بھی داخلے کے امکانات بدل سکتا ہے۔ اسی لیے شفاف انکوائری، ریکارڈ کا تحفظ اور نتائج کے ڈیٹا کی آزادانہ جانچ متاثرہ طلبہ اور ادارے دونوں کے اعتماد کے لیے اہم ہوگی۔