اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں میں کردار اور سابقہ ریکارڈ کی جانچ سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج اسے سرکاری ملازمت کے لیے مستقل طور پر نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ الزام اور عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم میں بنیادی فرق ہے اور انتظامی ادارے غیر ثابت شدہ الزام کو مستقل داغ کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عبداللطیف کی اپیل پر سماعت کی۔ درخواست گزار پنجاب پولیس میں ڈرائیور کانسٹیبل کی بھرتی کے میرٹ پر دوسرے نمبر پر آیا تھا، لیکن ماضی میں ایک فوجداری مقدمے میں نام آنے کی وجہ سے اسے تقرری نہیں دی گئی۔ ریکارڈ کے مطابق وہ 11 اکتوبر 2018 کو مقدمے سے بری ہو چکا تھا اور بعد میں جاری پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس میں بھی کوئی مجرمانہ ریکارڈ ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایف آئی آر بنیادی طور پر الزام کی دستاویز ہوتی ہے، جرم کا ثبوت یا قصور کا قانونی مفروضہ نہیں۔ اگر کسی مجاز عدالت نے ملزم کو بری کر دیا ہو تو تقرری کرنے والا ادارہ اس عدالتی نتیجے کو نظرانداز کرکے اسی الزام کو ثابت شدہ بدکرداری کے طور پر نہیں برت سکتا۔ عدالت نے اس معاملے کو قانونی حیثیت، مساوات اور منصفانہ طریقہ کار کے آئینی تقاضوں سے جوڑا۔

فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکام کے لیے رہنما اصول بھی وضع کیے گئے۔ عدالت کے مطابق منفی کردار کی تصدیق قابل اعتماد اور آزادانہ طور پر جانچے جانے والے مواد پر مبنی ہونی چاہیے، محض شبہے یا قیاس پر نہیں۔ بریت کے بعد متعلقہ فوجداری مقدمہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں ظاہر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مقدمہ زیر التوا ہو تو صرف اس کے زیر التوا ہونے کی حقیقت بیان کی جا سکتی ہے، قصور کا مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ حکام کو بھرتی کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر انہیں ان اصولوں اور قابل اطلاق قانونی فریم ورک کے مطابق ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ انتظامی صوابدید کو ایسے غیر ثابت شدہ الزام کو مستقل رکاوٹ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جو عدالتی فیصلے سے برقرار نہ رہا ہو۔

بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کے سابق فیصلے اور درخواست گزار کو تقرری سے خارج کرنے کے محکمانہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ سرکاری بھرتیوں میں پولیس ویریفکیشن اور سابق فوجداری مقدمات کے اثرات کے لیے ایک اہم عدالتی معیار فراہم کرتا ہے، تاہم ہر آئندہ معاملہ اس کے مخصوص حقائق، زیر التوا کارروائی اور متعلقہ سروس قوانین کے تحت جانچا جائے گا۔