اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسلام آباد زون نے لیبیا سے ڈی پورٹ ہو کر پاکستان پہنچنے والے 12 شہریوں کے خلاف انسانی اسمگلنگ سے متعلق مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ ان ایجنٹس کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جن پر ان افراد کو غیر قانونی طریقے سے اٹلی پہنچانے کے انتظامات کرنے کا الزام ہے۔

ایف آئی اے اسلام آباد زون کے مطابق ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے تحویل میں لینے کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل راولپنڈی کے حوالے کیا۔ اس کے بعد متعلقہ شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور ان کے سفر کے انتظامات میں شامل افراد کی شناخت اور کردار جانچنے کا عمل شروع ہوا۔

ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مختلف ایجنٹس نے مبینہ طور پر شہریوں کو بیرون ملک روزگار دلانے کا وعدہ کیا اور ان سے بھاری رقوم وصول کیں۔ الزام ہے کہ انہیں وزٹ اور عمرہ ویزوں کے ذریعے پاکستان سے پہلے دبئی اور مصر، اور پھر لیبیا پہنچایا گیا۔ منصوبہ مبینہ طور پر یہ تھا کہ لیبیا سے انہیں کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی انداز میں اٹلی پہنچایا جائے۔

یہ تمام نکات اس مرحلے پر ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات اور الزامات کا حصہ ہیں؛ مقدمہ درج ہونا کسی فرد کے جرم کے عدالتی طور پر ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ تفتیش کے دوران یہ طے کیا جائے گا کہ سفر کی منصوبہ بندی، رقوم کی وصولی، دستاویزات اور سرحد پار نقل و حرکت میں کن افراد کا کیا کردار تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق کیس کی تحقیقات انسپکٹر محمد عبداللہ کیانی کر رہے ہیں۔ ادارے نے کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ پاکستان سے یورپ جانے کے لیے خطرناک غیر قانونی راستوں کے استعمال کے واقعات میں لیبیا ایک اہم ٹرانزٹ مقام کے طور پر سامنے آتا رہا ہے، جہاں سے بحیرۂ روم کے راستے کشتیوں میں سفر جان لیوا خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

اس مقدمے میں اگلا اہم مرحلہ مبینہ ایجنٹس اور سہولت کاروں کے خلاف دستیاب شواہد کی جانچ، مالی لین دین کی تفصیلات اور متاثرہ یا ملزم قرار دیے گئے شہریوں کے بیانات کا تقابل ہوگا۔ کسی بھی فرد کے خلاف حتمی ذمہ داری یا سزا کا تعین متعلقہ عدالتی عمل اور ثابت شدہ شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔