پیرس: فرانس نے ملک گیر احتجاج کے نئے مرحلے کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جبکہ دارالحکومت پیرس میں اہم مقامات پر اضافی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام گزشتہ ہفتے ہونے والے مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد کیا گیا ہے، جن پر حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پولیس کو ہدایت کی کہ ممکنہ ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کی کوششوں پر فوری ردعمل دیا جائے۔ پیرس میں انسداد دہشت گردی کے فوجی یونٹ کے اہلکار شانزے لیزے سمیت حساس مقامات پر گشت کرتے دکھائی دیے، جبکہ آرک ڈی ٹرائمف اور دیگر معروف مقامات کے اطراف پولیس کی موجودگی بڑھا دی گئی۔ حکومت کے مطابق اس مرتبہ تعینات اہلکاروں کی تعداد 17 اکتوبر کے احتجاج کے مقابلے میں تقریباً دس ہزار زیادہ ہے۔
حالیہ ہفتوں میں مہنگائی، گھریلو اخراجات اور عوامی خدمات پر دباؤ کے خلاف طلبہ، کارکن اور مزدور تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ بعض شدت پسند گروہ اور لوٹ مار میں ملوث افراد بھی احتجاجی اجتماعات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور یونینز نے حکومت سے سماجی اور معاشی مطالبات پر عملی جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیرس میں متعدد دکانوں نے حفاظتی طور پر اپنے شٹر اور کھڑکیاں بند کر دیں۔ لوور، میوزے دورسے اور پیرس اوپرا سمیت اہم ثقافتی ادارے عارضی طور پر بند کیے گئے، جبکہ بیس سے زیادہ میٹرو اسٹیشنوں پر بھی آمدورفت روکی گئی۔ پولیس نے مرکزی پیرس میں مجوزہ مارچ کا راستہ تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس پر بائیں بازو کے بعض رہنماؤں نے اعتراض کیا۔
فرانس کے مختلف شہروں میں احتجاجی اجتماعات کے لیے الگ الگ پابندیاں اور اجازت نامے نافذ کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پرامن احتجاج کے حق اور شہری سلامتی کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔ احتجاج کے نتائج اور کسی ممکنہ تشدد یا گرفتاریوں کی مکمل تصویر دن کے اختتام پر سامنے آئے گی۔

