اسلام آباد/استنبول: پاکستان سمیت آر فور گروپ اور چار بڑے یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ اور اس سے منسلک علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق فریقین نے امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے اور تنازعات کے سلامتی، معاشی اور تجارتی اثرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس 23 اکتوبر کو استنبول میں ہوا جس میں آر فور کے رکن ممالک ترکیہ، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔
مشترکہ بیان کے مطابق وزرا نے امریکا، اسرائیل اور ایران سے متعلق جاری تنازع، اسرائیل فلسطین مسئلے اور مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب اور یمن کے خلاف حوثی حملوں، بحری جہاز رانی کی آزادی و سلامتی اور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود میں بڑھتی کشیدگی بھی ایجنڈے میں شامل رہی۔
فریقین نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دیرپا اور مذاکرات سے طے پانے والے حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ فارمیٹ میں بات چیت جاری رکھی جائے گی تاکہ تنازعات کی روک تھام اور علاقائی امن و استحکام کے لیے رابطہ برقرار رہے۔
آر فور گروپ پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل ہے اور رواں سال علاقائی سلامتی اور امریکا ایران کشیدگی میں ثالثی سے متعلق سفارتی رابطوں میں سرگرم رہا ہے۔ استنبول میں یورپی وزرائے خارجہ کی شمولیت نے اس مشاورت کا دائرہ وسیع کیا، تاہم مشترکہ بیان کسی نئے جنگ بندی معاہدے یا فوری سیاسی تصفیے کا اعلان نہیں ہے۔
اس اجلاس کی اہمیت ایسے وقت میں بڑھی ہے جب خلیج اور اہم بحری راستوں میں کشیدگی توانائی، تجارت اور جہاز رانی کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ شرکا نے ان اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سفارتی راستے کھلے رکھنے پر اتفاق کیا، مگر مختلف تنازعات کے حتمی حل کے لیے آئندہ مذاکرات اور متعلقہ فریقوں کی عملی رضامندی ضروری ہوگی۔

