اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ روابط کو عملی سطح پر وسعت دینے کے لیے براہ راست فضائی رابطہ قائم کرنے اور تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری اور بحری شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ جغرافیائی فاصلے کے باوجود بہتر سفری اور تجارتی سہولتیں تعلقات کو زیادہ فعال معاشی شراکت داری میں تبدیل کرسکتی ہیں۔
مالدیپ کے صدر محمد معیز کے دورۂ پاکستان کے دوران ہونے والی بات چیت میں براہ راست پروازوں کو عوامی رابطوں، کاروباری سفر اور سیاحت کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ دونوں جانب سے متعلقہ اداروں کو فضائی رابطے کے عملی طریقہ کار پر کام آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی تاکہ مسافروں کو تیسرے ملک کے ذریعے سفر کی ضرورت کم ہو اور دونوں منڈیوں کے درمیان رسائی بہتر ہوسکے۔
صدر معیز نے پاکستانی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو مالدیپ میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ مالدیپ کی معیشت میں سیاحت بنیادی شعبہ ہے، جبکہ تعمیرات، خدمات، خوراک، صحت اور دیگر شعبوں میں بھی درآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستانی حکام نے بھی نجی شعبے کے روابط بڑھانے اور تجارتی وفود کے تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا۔
بات چیت میں بحری رابطے اور بحر ہند میں تعاون کو بھی اہمیت دی گئی۔ پاکستان اور مالدیپ دونوں سمندری تجارت اور علاقائی بحری راستوں سے منسلک ہیں، اس لیے شپنگ، بندرگاہی روابط اور میری ٹائم تعاون کو مستقبل کے اقتصادی تعلقات کا ممکنہ اہم حصہ قرار دیا گیا۔
دونوں ممالک نے تعلیم، صحت، دفاعی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی میں موجود تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ پاکستان ماضی میں مالدیپ کے طلبہ اور سرکاری اہلکاروں کو تعلیمی اور تربیتی مواقع فراہم کرتا رہا ہے، اور حالیہ رابطوں میں اس تعاون کو وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی گئی۔
براہ راست پروازوں سے متعلق اتفاق سیاسی سطح پر اہم پیش رفت ہے، تاہم پروازوں کے آغاز کی حتمی تاریخ، روٹس، ایئرلائنز اور فریکوئنسی متعلقہ شہری ہوا بازی اور تجارتی اداروں کے عملی انتظامات کے بعد واضح ہوگی۔ اس لیے موجودہ اعلان کو فوری شیڈول کے بجائے فضائی رابطہ قائم کرنے کے مشترکہ عزم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

