اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تعمیراتی صنعت کے لیے نئے ادارہ جاتی ڈھانچے پر مشاورت شروع کردی ہے جس میں ایک ریگولیٹری اتھارٹی اور ممکنہ طور پر الگ مارکیٹنگ و ترقیاتی ادارہ قائم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اقتصادی امور کے وزیر احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس میں تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل، معیار، تنازعات کے حل اور صنعت کو درپیش انتظامی مسائل پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں مجوزہ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے اس سوال پر تفصیلی مشاورت کی کہ پورے شعبے کے لیے ایک ہی ادارہ قائم کیا جائے یا ضابطہ کاری اور صنعت کے فروغ کے لیے دو الگ ادارے بنائے جائیں۔ حکومت نے متعلقہ سرکاری ایجنسیوں اور کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندوں کے ساتھ مزید مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے مجوزہ ڈھانچہ ابھی حتمی نہیں ہے۔
ایک اہم تجویز بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے کم از کم تین سال کی defect liability مدت مقرر کرنے کی ہے، جس کے دوران ٹھیکیدار تعمیر کے نقائص کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ نجی شعبے کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان اس شرط کے اطلاق کے لیے منصوبے کی کم از کم مالی حد پر اختلاف سامنے آیا۔ تعمیراتی صنعت نے 20 ارب روپے یا اس سے زیادہ مالیت کے منصوبوں کی حد تجویز کی، جبکہ حکومتی نمائندوں نے نسبتاً کم حد مقرر کرنے پر زور دیا۔
اجلاس میں ٹھیکیداروں کی retention money کو ایسے اکاؤنٹس میں رکھنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی جن پر منافع حاصل ہو اور ذمہ داری کی مدت مکمل ہونے کے بعد اصل رقم کے ساتھ منافع بھی واپس کیا جاسکے۔ اسی طرح سرکاری منصوبوں میں Dispute Avoidance and Adjudication Board کے طریقۂ کار کو اپنانے پر بات ہوئی تاکہ تعمیر کے دوران تنازعات کو ابتدائی مرحلے میں روکا یا حل کیا جاسکے۔
حکومت نے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو بڑے منصوبوں کے لیے کم از کم تین سال کی defect liability شرط پر کام شروع کرنے کی ہدایت دی ہے اور بعد میں اسے مرحلہ وار چھوٹے منصوبوں تک بڑھانے پر غور ہوگا۔ مجوزہ فریم ورک میں بین الاقوامی فیڈک معیارات سے رہنمائی لینے کی بات بھی کی گئی۔ حتمی قانون، مالی حدود اور اداروں کی ساخت ابھی طے نہیں ہوئی، اس لیے موجودہ مرحلہ پالیسی سازی اور اسٹیک ہولڈر مشاورت کا ہے۔

