پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے سابق پاکستان تحریک انصاف حکومتوں کے دوران منظور کیے گئے 74 قوانین کا جامع جائزہ شروع کر دیا ہے، جس میں تقریباً 20 سرکاری محکموں سے متعلق قانون سازی شامل ہے۔ ڈان کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اس عمل کا مقصد موجودہ انتظامی ضروریات، قانونی خامیوں اور ادارہ جاتی کارکردگی کے تناظر میں قوانین کا دوبارہ جائزہ لینا ہے۔

ذرائع کے مطابق زیر جانچ قوانین میں پراسیکیوشن، سرکاری جامعات، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز، صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور مراعات سمیت مختلف شعبوں کے ایکٹس شامل ہیں۔ ہر قانون کو منسوخ کرنا اس جائزے کا لازمی نتیجہ نہیں؛ متعلقہ محکمے یہ دیکھیں گے کہ کہاں ترمیم، وضاحت، انتظامی تبدیلی یا موجودہ قانون برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا میں گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران حکمرانی، صحت، تعلیم، بلدیاتی نظام، احتساب اور سرکاری اداروں کے انتظام سے متعلق متعدد بڑی قانونی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ ان میں سے بعض قوانین نے اداروں کو زیادہ خودمختاری دی جبکہ بعض پر سیاسی یا انتظامی سطح پر تنقید بھی ہوتی رہی۔ نئے جائزے میں انہی عملی تجربات اور موجودہ حکومتی ترجیحات کو سامنے رکھا جا رہا ہے۔

قانونی جائزہ اور قانون کی منسوخی یا ترمیم الگ مراحل ہیں۔ اگر حکومت کسی ایکٹ میں تبدیلی چاہتی ہے تو اسے آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق صوبائی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنا پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح عدالتی فیصلے، ملازمین کے حقوق، اداروں کی خودمختاری اور پہلے سے کیے گئے انتظامی اقدامات بھی بعض ترامیم کی نوعیت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

اس عمل کی سیاسی اہمیت بھی ہے کیونکہ زیر جائزہ قانون سازی کا بڑا حصہ اسی جماعت کے گزشتہ ادوار سے منسلک ہے جس نے صوبے میں طویل عرصہ حکومت کی۔ تاہم ہر قانون کے بارے میں حتمی فیصلہ اس کی شقوں اور عملی اثرات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 74 قوانین کے جائزے کا آغاز ہے؛ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تمام قوانین تبدیل یا ختم کر دیے جائیں گے۔ حتمی تجاویز متعلقہ محکموں اور قانونی جانچ کے بعد سامنے آئیں گی۔