پشاور: وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد صوبے کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور بعض دیگر سیاسی شخصیات کی احتیاطی حراست کی سرکاری تصدیق سامنے آگئی ہے۔ پیر 12 اکتوبر 2026 کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے رائٹرز کو بتایا کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق یہ حراستیں اتوار کو عمل میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی زیرِ حراست شخص کے خلاف قابلِ سماعت مقدمات موجود ہوئے تو متعلقہ قانونی کارروائی ہوگی، جبکہ دیگر افراد کو رہا کردیا جائے گا۔ یہ حکومتی بیان ہے؛ اس سے کسی زیرِ حراست شخص کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوتا۔
ڈان سے بات کرنے والے ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کی کہ آٹھ افراد احتیاطی حراست میں ہیں۔ ان میں سہیل آفریدی، قومی اسمبلی کے رکن جنید اکبر اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی بھی شامل بتائے گئے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلمی ظاہر کر رہے تھے۔ بعض ذرائع نے کہا تھا کہ آفریدی اور جنید اکبر کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ تین کے تحت گھر میں محدود کیا گیا تھا۔
تحریک انصاف کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے اس کارروائی کو وفاقی حکومت کے گورنر راج کے فیصلے سے منسلک کیا اور الزام لگایا کہ اقدامات کا مقصد پارٹی اور منتخب صوبائی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ یہ اپوزیشن کا سیاسی مؤقف ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مبینہ عدم تعاون اور سلامتی کے خدشات کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔
وفاق نے اتوار کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے تھے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کا انتظام وفاق کی جانب سے سنبھالا اور ان کی معاونت کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی۔ اس تبدیلی کے ساتھ سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور پشاور کی بعض سڑکوں پر کنٹینر اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔
پی ٹی آئی نے اپنے احتجاجی منصوبے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پولیس کو ممکنہ مارچ روکنے کی ہدایات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ زیرِ حراست رہنماؤں کے خلاف کسی مخصوص الزام کا عدالتی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔ فی الحال تصدیق شدہ بات ان کی احتیاطی حراست اور اس کے بارے میں حکومت و اپوزیشن کے متضاد مؤقف ہیں؛ حراست کی قانونی حیثیت اور آئندہ کارروائی کا تعین متعلقہ قانونی عمل سے ہوگا۔

