قومی اسمبلی نے نجی اراکین کے دن کا 64 نکاتی ایجنڈا ایک طرف رکھتے ہوئے اراکین کو مختلف قومی اور حلقہ جاتی مسائل پر عام بحث کا موقع دیا۔ ڈان کے مطابق حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے دو درجن سے زیادہ اراکین نے دہشت گردی، زراعت، بجلی کی لوڈشیڈنگ، پٹرول کی قیمتوں، صحت، برآمدات اور خیبرپختونخوا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال سمیت متعدد موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے ہیڈکوارٹر کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی مجوزہ کوشش کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ کمپنی کا تاریخی اور انتظامی تعلق سندھ سے ہے اور منتقلی صوبے کے مفادات کے خلاف ہو گی۔ یہ اراکین کا سیاسی و پالیسی مؤقف ہے؛ کسی حتمی منتقلی یا اس کے قانونی جواز کا تعین متعلقہ حکومتی اور کمپنی فیصلوں سے ہو گا۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین نے ڈی اے پی، یوریا اور زرعی مشینری کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی۔ کسانوں کے لیے کھاد اور مشینری کی لاگت فصل کی پیداواری قیمت پر براہ راست اثر ڈالتی ہے، اس لیے اراکین نے زرعی شعبے کے لیے ریلیف اور رسد بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ بحث میں برآمدات بڑھانے اور مقامی صنعت کو سہولت دینے کی ضرورت بھی زیر بحث آئی۔
دہشت گردی اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر مختلف جماعتوں کے اراکین نے مختلف نقطہ نظر پیش کیے۔ بعض نے سخت سکیورٹی اقدامات کی حمایت کی جبکہ دیگر نے سیاسی اور انتظامی حل پر زور دیا۔ ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق آرا بھی منقسم رہیں، جس سے واضح ہوا کہ ایوان میں اس مسئلے پر سیاسی اتفاق موجود نہیں۔
اس نشست میں اٹھائے گئے مطالبات پارلیمانی بحث اور سیاسی مؤقف کی حیثیت رکھتے ہیں، لازمی حکومتی فیصلے نہیں۔ کسی پالیسی تبدیلی، قیمت میں کمی، کمپنی ہیڈکوارٹر کی منتقلی یا دیگر عملی اقدام کے لیے متعلقہ وزارت، کابینہ، ریگولیٹر یا قانونی عمل درکار ہو گا۔ تاہم ایجنڈا مؤخر کر کے وسیع بحث کی اجازت دینا اراکین کو فوری قومی مسائل پارلیمانی ریکارڈ پر لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

