اسلام آباد: قومی اسمبلی نے بدھ 14 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں وفاق کی جانب سے نافذ کردہ ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قرارداد منظور کرلی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صوبے میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے قانونی جواز اور سیاسی اثرات پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کے صدارتی اعلان سے متعلق تحریک پیش کی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کیا اور ایوان نے اکثریتی رائے سے قرارداد منظور کی۔ اس معاملے پر گفتگو کے لیے وقفہ سوالات بھی معطل کیا گیا۔ صدارتی اعلان 11 اکتوبر کو جاری ہوا تھا اور وفاقی حکومت نے اس کے لیے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور صوبے کی سلامتی کی صورتحال سے متعلق خدشات بیان کیے تھے۔

وزیر قانون نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی مسائل قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جارہے تھے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی اعلان کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔ حکومتی اعداد و شمار اور صوبائی انتظامیہ کے بارے میں وزیر کے الزامات کو ان کا سیاسی اور سرکاری مؤقف سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی آزاد عدالتی تحقیق کا نتیجہ۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فیصلے کا دفاع کیا لیکن ساتھ ہی حکومت اور اپوزیشن سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی مستقل حل نہیں اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وسیع قومی اتفاق رائے درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی راستے کھلے رکھنا بھی ضروری ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے وفاقی اقدام مسترد کیا اور مطالبہ کیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے اقدامات قومی ایکشن پلان کے مطابق کیے جائیں۔ اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے بھی حکومتی دلائل پر سوال اٹھائے۔ یوں قرارداد کی منظوری کے باوجود اس اقدام پر سیاسی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔

آئینی طور پر ایمرجنسی کے اعلان اور گورنر راج سے متعلق انتظامات الگ دفعات کے تحت آتے ہیں؛ اس لیے قومی اسمبلی کی قرارداد کو تمام متعلقہ پارلیمانی اور قانونی مراحل کی تکمیل کے مترادف قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس معاملے میں آئندہ پارلیمانی کارروائی، صوبائی نظم و نسق اور عدالتی چیلنجز اہم رہیں گے۔