سنگاپور: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعرات کو کم ہوگئیں کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ سفارتی رابطوں کی امید نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ رسد میں خلل کے خدشات کو عارضی طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.1 فیصد کم ہوکر 114.10 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 101.45 ڈالر فی بیرل تک آگیا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی اعلیٰ سکیورٹی قیادت کو مذاکرات بحال کرنے سے متعلق پیغام بھیجا، جبکہ قطری ثالثوں نے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع ختم کرنے کے لیے ایک مسودہ تجویز تہران کے سامنے رکھی۔ ایران نے کہا کہ سفارت کاری کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے پیش کردہ مسودے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ اس لیے کسی باقاعدہ سمجھوتے یا جنگ بندی کو فی الحال طے شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

تیل کی منڈی میں دوسری سمت سے رسد کے خطرات بھی برقرار ہیں۔ یمن کے حوثیوں سے منسوب حملوں اور سعودی عرب سمیت خطے کے توانائی انفراسٹرکچر کے بارے میں خدشات نے قیمتوں کو سہارا دیا، جبکہ امریکی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں بھی مارکیٹ کے خطرے کے تخمینے میں شامل رہیں۔ روسی ریفائنری سرگرمی میں ممکنہ بحالی اور خام تیل کی زیادہ پیداوار کی توقعات نے دوسری جانب قیمتوں پر دباؤ بڑھایا۔

امریکی اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 19 لاکھ بیرل کمی ہوئی، مگر پٹرول کے ذخائر تقریباً 39 لاکھ بیرل بڑھے، جو مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا۔ خام تیل کی قیمتیں اس وقت سفارتی خبروں اور حقیقی رسد کے خطرات دونوں پر تیزی سے ردعمل دے رہی ہیں۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو جغرافیائی سیاسی رسک پریمیم کم ہوسکتا ہے، جبکہ تنازع بڑھنے یا خلیجی رسد متاثر ہونے کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے۔