پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے براہ راست شپنگ، کاروباری رابطوں اور تجارتی سہولت کاری پر توجہ بڑھائی جا رہی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سمندری راستوں اور کاروباری رابطوں میں بہتری سے ترسیلی وقت اور لاگت کم ہو سکتی ہے اور دوطرفہ تجارت کے موجودہ حجم میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کی بڑی آبادیوں اور اہم صنعتی شعبوں کے حامل ممالک ہیں، لیکن ان کے درمیان تجارت اپنی ممکنہ استعداد سے کم رہی ہے۔ براہ راست شپنگ کی محدود دستیابی کے باعث بہت سا سامان تیسرے بندرگاہی مراکز کے ذریعے منتقل ہوتا رہا ہے، جس سے وقت اور فریٹ لاگت بڑھ سکتی ہے۔ کراچی اور چٹاگانگ جیسے بڑے بندرگاہی مراکز کے درمیان بہتر رابطہ کاروباری اداروں کے لیے سپلائی چین کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔

دونوں ممالک کے کاروباری حلقے ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، ادویات، کیمیکل، خوراک اور دیگر شعبوں میں باہمی تجارت کے امکانات دیکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت بڑی درآمدی سپلائی چین رکھتی ہے، جبکہ پاکستان کپاس، یارن، کپڑا اور مختلف صنعتی خام مال فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی مصنوعات کے لیے پاکستانی منڈی میں بھی مواقع موجود ہیں۔

تجارتی روابط میں اضافہ صرف بحری سروس سے وابستہ نہیں۔ کسٹمز طریقہ کار، ویزا سہولت، بینکاری چینلز، معیار کے ضوابط، کاروباری وفود اور ادائیگی کے نظام بھی دوطرفہ تجارت کے لیے اہم ہیں۔ ان رکاوٹوں میں کمی کے بغیر صرف شپنگ رابطہ تجارتی حجم میں مطلوبہ اضافہ یقینی نہیں بنا سکتا۔

حالیہ رابطوں کو دونوں ممالک کے تعلقات میں معاشی پہلو کو زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم کسی مخصوص نئی شپنگ لائن، تجارتی رعایت یا معاہدے کی حتمی تفصیلات متعلقہ حکومتوں، بندرگاہی اداروں اور شپنگ کمپنیوں کے باضابطہ اعلانات سے ہی طے ہوں گی۔ عملی کامیابی کا پیمانہ آنے والے مہینوں میں تجارتی حجم، فریٹ لاگت اور براہ راست کارگو نقل و حرکت میں تبدیلی ہو گا۔