راولپنڈی: پاکستان اور برازیل کی اعلیٰ عسکری قیادت نے پیر 12 اکتوبر 2026 کو دوطرفہ فوجی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق برازیل کی مسلح افواج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ ایڈمرل ریناٹو روڈریگز ڈی اگویار فریرے کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے میں سلامتی کی صورتِ حال اور دفاعی و سکیورٹی تعاون کو آگے بڑھانے کے امکانات زیرِ بحث آئے۔ دونوں ملکوں کے فوجی رہنماؤں نے پاکستان اور برازیل کے دیرینہ دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور فوج سے فوج کے رابطے مضبوط کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملاقات کے دوران برازیل کے ساتھ دفاعی تعلقات مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق برازیلی ایڈمرل نے پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عملی تیاری کو سراہا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اس کی خدمات کا اعتراف کیا۔ یہ بیانات دونوں فریقوں کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔
برازیلی وفد کی جی ایچ کیو آمد پر تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس رسمی تقریب اور ملاقات کو دفاعی سفارت کاری کے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم جاری بیان میں کسی مخصوص ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ مشق کی تاریخ، دفاعی معاہدے پر دستخط یا مالی ذمہ داری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستان اور برازیل کے تعلقات صرف عسکری سطح تک محدود نہیں۔ ماضی میں دونوں ملکوں کے سفارتی نمائندوں نے تجارتی رابطوں کو بڑھانے پر بھی بات چیت کی تھی۔ 2018 میں برازیل کے اس وقت کے سفیر نے پشاور میں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا تھا، جہاں کاروباری تعاون اور مشترکہ چیمبر کے امکانات زیرِ غور آئے تھے۔ اس پس منظر سے دوطرفہ تعلقات کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے، لیکن موجودہ ملاقات کا مرکزی موضوع دفاع اور سلامتی تھا۔
آئی ایس پی آر نے اس دورے کو دفاعی تعاون گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کی علامت قرار دیا۔ ملاقات کے بعد عملی پیش رفت کا انحصار آئندہ رابطوں اور کسی باضابطہ طور پر اعلان کردہ پروگرام پر ہوگا۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت ملاقات، زیرِ بحث امور اور تعاون بڑھانے پر اصولی اتفاق ہی ہے۔
