وفاقی حکومت نے تعمیراتی صنعت میں معیار، شفافیت اور جواب دہی بہتر بنانے کے لیے نئی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے اور سرکاری منصوبوں میں تعمیراتی نقائص کی ذمہ داری کی مدت بڑھانے سمیت اصلاحات کا خاکہ پیش کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ کی زیر صدارت اجلاس میں مجوزہ Construction Industry Development and Regulatory Authority اور تعمیراتی شعبے کے قانونی و انتظامی ڈھانچے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تعمیراتی صنعت ملکی معیشت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، لیکن مختلف اداروں میں بٹے ہوئے قواعد، معیار کے غیر یکساں نفاذ اور منصوبوں کی نگرانی میں کمزوریاں شعبے کی کارکردگی متاثر کرتی ہیں۔ مجوزہ اتھارٹی کا مقصد ریگولیشن، پیشہ ورانہ معیار، کنٹریکٹرز کی نگرانی اور صنعت کی ترقی سے متعلق ذمہ داریوں کو زیادہ مربوط شکل دینا ہے۔

اصلاحاتی تجاویز میں سرکاری تعمیراتی منصوبوں کے لیے defect liability period کو تین سال تک بڑھانے کا تصور بھی شامل ہے۔ اس مدت کے دوران سامنے آنے والے تعمیراتی نقائص کی اصلاح کی ذمہ داری متعلقہ کنٹریکٹر یا معاہدے کے تحت ذمہ دار فریق پر عائد رہ سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ناقص تعمیر، جلد مرمت کی ضرورت اور سرکاری وسائل پر اضافی بوجھ کم کرنا ہے۔ تاہم ہر منصوبے پر اس شرط کے اطلاق کی حتمی قانونی اور معاہداتی تفصیلات متعلقہ قواعد اور منظور شدہ فریم ورک سے طے ہوں گی۔

اجلاس میں بڑے منصوبوں کے لیے زیادہ سخت نگرانی اور پیشہ ورانہ اہلیت کے معیار پر بھی گفتگو ہوئی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تعمیراتی صنعت کے لیے جدید ریگولیٹری نظام سرمایہ کاری کے اعتماد، منصوبوں کے معیار اور ادارہ جاتی احتساب کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ کنٹریکٹرز، انجینئرز، مشاورتی اداروں اور سرکاری محکموں کی ذمہ داریوں کو واضح کرنا بھی اصلاحات کا اہم حصہ ہوگا۔

مجوزہ اتھارٹی کا قیام موجودہ اداروں اور قوانین کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کا سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل اور وفاقی و صوبائی ترقیاتی ادارے پہلے ہی تعمیرات اور انجینئرنگ کے مختلف پہلوؤں میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے نئی اتھارٹی کے مؤثر نفاذ کے لیے قانونی حدود، لائسنسنگ، معائنہ، تنازعات کے حل اور وفاقی و صوبائی اداروں کے باہمی رابطے کو واضح کرنا ضروری ہوگا۔

حکومتی اعلان اس مرحلے پر پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ نئی اتھارٹی کی مکمل فعالیت، قواعد کے نفاذ اور تین سالہ ذمہ داری کی شرط کے عملی اثرات کا جائزہ متعلقہ قانون سازی، نوٹیفکیشن اور بعد میں نافذ ہونے والے منصوبوں کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔ اس لیے مجوزہ اصلاحات کو فوری طور پر پورے تعمیراتی شعبے میں نافذ شدہ حتمی نظام قرار نہیں دیا جا سکتا۔