اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اسے 24 نومبر 2026 تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے نئے نوٹس ٹو ایئرمین، یعنی نوٹم، کے مطابق پابندی بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے ساتھ ساتھ بھارتی ایئرلائنز یا آپریٹرز کے زیرِملکیت، زیرِانتظام یا لیز پر لیے گئے طیاروں پر بھی لاگو ہوگی۔

نوٹم میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندی میں فوجی پروازیں بھی شامل ہیں۔ نئی توسیع 17 اکتوبر کی شام نافذ ہوئی اور مقررہ وقت کے مطابق 24 نومبر کو صبح 4 بج کر 59 منٹ تک مؤثر رہے گی۔ اس سے قبل موجودہ پابندی 24 اکتوبر کو ختم ہونا تھی، تاہم ایئرپورٹس اتھارٹی نے مدت ختم ہونے سے پہلے ہی نئی توسیع جاری کردی۔

یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی رابطوں پر جاری پابندیوں کے تسلسل کا حصہ ہے۔ نئی ہدایت کا عملی مطلب یہ ہے کہ پابندی کے دائرے میں آنے والے بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کے لیے معمول کے راستے استعمال نہیں کرسکیں گے۔ نوٹم ہوا بازی کے شعبے میں ایسی باقاعدہ اطلاع ہوتی ہے جس کے ذریعے پائلٹس، ایئرلائنز اور متعلقہ اداروں کو فضائی حدود، راستوں یا آپریشنل پابندیوں کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے نوٹس میں اس تازہ توسیع کے لیے کسی نئے واقعے یا الگ آپریشنل سبب کی تفصیلی وضاحت نہیں دی گئی، اس لیے دستیاب سرکاری متن سے یہی تصدیق ہوتی ہے کہ موجودہ پابندی کی مدت بڑھائی گئی ہے۔ پابندی کی شرائط میں بھارتی رجسٹریشن کے علاوہ ملکیت، آپریشن اور لیز کے انتظامات کو شامل کرنے سے ایسے طیارے بھی دائرہ کار میں آتے ہیں جو کسی دوسرے رجسٹریشن یا تجارتی بندوبست کے تحت استعمال کیے جارہے ہوں لیکن بھارتی ایئرلائن یا آپریٹر سے متعلق ہوں۔

فضائی حدود سے متعلق پابندیاں ایئرلائنز کے روٹ، پرواز کے دورانیے اور ایندھن کی منصوبہ بندی پر اثر ڈال سکتی ہیں، تاہم اس مخصوص نوٹم میں مالی اثرات یا متبادل راستوں کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش کو 24 نومبر تک بڑھا دیا ہے اور اس میں فوجی پروازیں بھی شامل رہیں گی۔