اسلام آباد میں پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تعلقات کو وسیع کرنے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے تجارت کا حجم تقریباً 13.9 ملین ڈالر سے بڑھا کر آئندہ دو برس میں 200 ملین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا۔ یہ پیش رفت مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران ہوئی، جو دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع سے بھی ہم آہنگ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر محمد معیزو نے معاہدوں کے تبادلے کی تقریب دیکھی۔ طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں، صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، زراعت، ماہی گیری، سیاحت، شہری ہوا بازی، دفاع، میری ٹائم سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سروس کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ دونوں ملکوں نے منشیات کی غیر قانونی ترسیل کی روک تھام، طبی عملے کی بھرتی، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور نوجوانوں و کھیلوں کے شعبے میں بھی تعاون کے فریم ورک پر اتفاق کیا۔
مشترکہ پریس گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ملکوں کی معاشی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے اور پاکستان و مالدیپ معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے دو سال میں 200 ملین ڈالر کے ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ کوشش کریں گے۔ تجارتی تعاون بڑھانے کے لیے مالدیپ کی اسٹیٹ ٹریڈنگ آرگنائزیشن اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے درمیان زرعی اجناس، خوراک اور دیگر مصنوعات کی تجارت سے متعلق مفاہمت بھی شامل ہے۔
صدر معیزو کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے اور کسی مالدیپی صدر کا 11 برس بعد پاکستان کا دورہ ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات میں سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، تعلیم، صحت، پولیسنگ اور استعداد کار بڑھانے کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ معاہدوں کی تعداد اور شعبوں کی وسعت سے دونوں حکومتوں نے تعلقات کو محض سفارتی رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے ادارہ جاتی اور تجارتی سطح پر آگے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم 200 ملین ڈالر کا تجارتی ہدف مستقبل کا مقرر کردہ مقصد ہے؛ اس کے حصول کا انحصار معاہدوں کے عملی نفاذ، کاروباری روابط اور اشیا و خدمات کی حقیقی تجارت میں اضافے پر ہوگا۔
