اسلام آباد: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ’بدر‘ کے نام سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ یہ دستاویز چاروں ممالک کی جانب سے علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ تعاون میں کردار ادا کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔

ترکیہ کی وزارت دفاع نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چاروں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی بنیادوں پر آگے بڑھانے کا مقصد شراکت داری کو مزید ترقی دینا ہے۔ دستیاب سرکاری اور معتبر میڈیا معلومات میں مفاہمتی یادداشت کے تمام عملی، قانونی اور عسکری پہلو تفصیل سے جاری نہیں کیے گئے، اس لیے اسے کسی خودکار مشترکہ جنگی ذمہ داری یا باقاعدہ دفاعی اتحاد کے مترادف قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور متعدد محاذوں پر سکیورٹی خطرات نے علاقائی ممالک کے درمیان دفاعی رابطوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ پاکستان پہلے ہی ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ الگ الگ دفاعی، تربیتی اور سفارتی روابط رکھتا ہے۔ نئی چار فریقی دستاویز ان موجودہ تعلقات کو ایک مشترکہ فریم ورک میں وسعت دینے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت کا بنیادی پیغام تعاون اور استحکام ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ علاقائی سلامتی کے چیلنجز کا مقابلہ باہمی رابطوں، صلاحیت سازی اور شراکت داری کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب ترکیہ نے بھی اس فریم ورک کو دفاعی روابط مزید گہرے کرنے کی سمت قدم قرار دیا ہے۔

معاہدے کی عملی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوگی جب چاروں ممالک مشترکہ سرگرمیوں، تربیت، دفاعی صنعت، معلومات کے تبادلے یا دیگر ممکنہ شعبوں کے لیے تفصیلی انتظامات جاری کریں گے۔ فی الحال دستیاب معلومات ایک مفاہمتی فریم ورک کی تصدیق کرتی ہیں، نہ کہ کسی ایسے خودکار اجتماعی دفاعی بندوبست کی جس کی شرائط مکمل طور پر عوام کے سامنے ہوں۔

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت اس کی حالیہ کثیرالجہتی دفاعی سفارت کاری کا حصہ ہے۔ آنے والے مہینوں میں ’بدر‘ فریم ورک کے تحت ہونے والی عملی سرگرمیاں یہ طے کریں گی کہ چار فریقی تعاون رسمی سیاسی اعلان سے آگے کس حد تک مشترکہ منصوبوں اور ادارہ جاتی روابط میں تبدیل ہوتا ہے۔