نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کی صورت حال پر گفتگو کے دوران مستقل جنگ بندی، شہری آبادی کے تحفظ اور ضرورت مند فلسطینیوں تک بلا رکاوٹ انسانی امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی مؤقف میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طویل تنازع اور انسانی بحران کا پائیدار حل سیاسی عمل اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستان نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو دیرپا امن کے لیے بنیادی قرار دیا جاتا ہے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔ سلامتی کونسل میں تازہ بیان اسی وسیع سفارتی پالیسی کا تسلسل ہے۔
غزہ میں انسانی صورت حال عالمی اداروں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث رہی ہے۔ خوراک، پانی، ادویات، طبی سہولیات اور رہائش کی ضرورت نے امدادی اداروں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ پاکستان نے امدادی سامان کی رسائی میں رکاوٹیں دور کرنے اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر زور دیا۔ جنگی حالات میں کسی بھی فریق کی کارروائی سے متعلق قانونی ذمہ داریوں کا تعین بین الاقوامی قانون اور متعلقہ تحقیقاتی یا عدالتی عمل کے مطابق کیا جاتا ہے۔
سلامتی کونسل میں غزہ کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان جنگ بندی کی شرائط، یرغمالیوں، انسانی امداد، سکیورٹی انتظامات اور مستقبل کے سیاسی فریم ورک پر اختلافات رہے ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ کونسل شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی کے لیے مؤثر اور قابل نفاذ اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ خطے میں تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف عارضی انسانی وقفے مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوسکتے۔ اسلام آباد کے مطابق فلسطین کے بنیادی سیاسی مسئلے کے حل کے بغیر بار بار تشدد اور انسانی بحران کا خطرہ برقرار رہے گا۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار سلامتی کونسل کے ارکان، علاقائی ممالک اور ثالثوں کے درمیان مذاکرات پر ہوگا، جبکہ فوری ترجیح شہری جانوں کا تحفظ اور امداد کی مسلسل رسائی ہے۔

