کراچی: پاکستان نے 2026 میں 66 سال کا گرم ترین مون سون ریکارڈ کیا، جبکہ مجموعی بارش معمول سے 19 فیصد کم رہی۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے کلائمیٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران قومی اوسط درجہ حرارت 30.7 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو معمول سے 0.9 ڈگری زیادہ اور 2019 میں قائم 30.6 ڈگری کے سابق ریکارڈ سے بھی بلند ہے۔

رپورٹ کے مطابق مون سون سیزن میں پاکستان کو تقریباً 120 ملی میٹر بارش ملی۔ مجموعی کمی کے باوجود بعض علاقوں میں شدید بارش اور اچانک سیلاب آئے، جس سے واضح ہوا کہ کم مجموعی بارش کا مطلب ہر جگہ خشک موسم نہیں تھا۔ کشمیر، خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان کے نشیبی حصوں اور مشرقی سندھ میں تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ لاہور ایئرپورٹ پر 23 جولائی کو ایک دن میں 252 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ گوجرانوالہ میں جولائی کے دوران 607 ملی میٹر بارش ہوئی۔

محکمہ موسمیات نے مضبوط ہوتے ال نینو کو معمول سے کم بارش کے رجحان سے منسلک کیا، تاہم اسے بارش کی کمی کی واحد وجہ قرار نہیں دیا۔ خلیج بنگال کے کم دباؤ کے نظام، بحیرہ عرب سے آنے والی مون سون ہوائیں اور مغربی موسمی سلسلے بھی سیزن کی بارش پر اثر انداز ہوئے۔ مون سون کا محور مختلف اوقات میں بدلتا رہا اور سیزن 22 ستمبر کو پاکستان سے واپس ہوا۔

رپورٹ میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعداد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بارش اور سیلاب سے متعلق واقعات میں تقریباً 199 افراد جان سے گئے اور 556 زخمی ہوئے۔ 34.92 کلومیٹر سڑکیں، 41 پل اور 1,839 مکانات متاثر یا نقصان زدہ ہوئے، جبکہ 1,559 مویشیوں کے متاثر ہونے کی اطلاع دی گئی۔ ان اعداد کو موسمی خطرات کے اثرات کے طور پر دیکھا گیا ہے، لیکن رپورٹ نے فصلوں کے مجموعی مالی نقصان کا حتمی تخمینہ نہیں دیا۔

کم بارش پانی کے ذخائر، زیر زمین پانی اور زرعی نمی پر دباؤ بڑھا سکتی ہے، جبکہ مختصر مدت کی انتہائی شدید بارش کھیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہی دوہرا خطرہ پاکستان کے لیے پانی کے انتظام، زرعی منصوبہ بندی اور سیلابی تیاری کی اہمیت بڑھاتا ہے۔