اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں اپوزیشن ارکان نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال، صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے تناظر میں مبینہ انسانی حقوق خلاف ورزیوں اور حکومت کے طرز عمل پر سوالات اٹھائے۔ حکومتی نمائندوں نے بعض الزامات کا جواب دیتے ہوئے اپنے اقدامات کا دفاع کیا، جبکہ پارلیمان میں انتخابی اصلاحات اور ادارہ جاتی مضبوطی پر بھی بحث ہوئی۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے تہران میں حالیہ سفارتی پیش رفت کے بارے میں پارلیمان کو اعتماد میں نہ لینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے افغانستان کے ساتھ تجارت کی معطلی کی بھی مخالفت کی اور خارجہ پالیسی کے بڑے فیصلوں میں منتخب ایوان کے کردار پر زور دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی اور خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال عوام میں منفی تاثر پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے ملک میں موروثی سیاست کے خاتمے کی ضرورت پر بھی بات کی۔ ان بیانات کو اپوزیشن کا سیاسی مؤقف سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی عدالتی یا آزاد تحقیق کا نتیجہ۔
سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے دوران آئینی تحفظات کمزور ہوئے ہیں۔ انہوں نے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور عمران خان کی زیر حراست بہن نورین نیازی کی صحت اور اہل خانہ کی ملاقات سے متعلق تشویش ظاہر کی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے جواب میں کہا کہ نورین نیازی کو لاہور میں طبی علاج فراہم کیا گیا اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔ اہل خانہ کو ملاقات نہ دینے کے الزام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تفصیلات حاصل کر کے حالات کے مطابق معاملہ دیکھا جائے گا۔ انہوں نے حراست کا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نورین نیازی نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کے لیے لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی تھی۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی خیبرپختونخوا میں حکومتی اقدامات پر تنقید کی اور قانون و جمہوری اداروں کے احترام کا مطالبہ کیا۔ ان تمام سیاسی دعوؤں اور جوابی مؤقف میں متعدد متنازع نکات شامل ہیں جن کی حیثیت متعلقہ فریقوں کے بیانات کی ہے۔
اسی اجلاس میں سینیٹ نے ملک کی تیزی سے بڑھتی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط قومی اقدام کی قرارداد منظور کی۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی پیش کردہ قرارداد میں آبادی کے اضافے اور عوامی خدمات و سماجی و معاشی ترقی پر اس کے اثرات کے لیے جامع قومی ردعمل کی اپیل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ شرح نمو برقرار رہنے کی صورت میں 2050 تک پاکستان کی آبادی تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
پارلیمانی کارروائی نے ایک ہی وقت میں سیاسی کشیدگی، شہری حقوق اور طویل المدت حکمرانی کے مسائل کو نمایاں کیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کے باوجود انتخابی اصلاحات، پارلیمان کے کردار اور آبادی جیسے معاملات پر ادارہ جاتی بحث جاری رہنا آئندہ قانون سازی اور سیاسی مذاکرات کے لیے اہم ہوگا۔

