پشاور: ضلعی ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے پشاور کی 48 ہائی رسک یونین کونسلوں میں چھ روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم شروع کر دی ہے، جس کا ہدف چار ماہ سے 10 سال تک عمر کے 1,111,107 بچوں تک ویکسین پہنچانا ہے۔ حکام کے مطابق مہم کا مقصد بچوں کی پولیو وائرس کے خلاف قوت مدافعت مضبوط کرنا اور ان علاقوں میں وائرس کی منتقلی محدود کرنا ہے جہاں ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے۔

ڈان میں شائع اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے میں ضلع خیبر اور صوبے کے دیگر حصوں میں پولیو کیسز سامنے آنے کے بعد پشاور کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں اضافی حفاظتی خوراک کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ خیبر میں 10 سالہ بچے میں حالیہ انفیکشن نے حکام کو بڑی عمر کے بچوں کے تحفظ پر بھی توجہ دینے پر مجبور کیا، اسی لیے موجودہ مہم کا عمر کا دائرہ عام کم عمر بچوں سے آگے بڑھایا گیا ہے۔

مہم کے دوران صحت ٹیمیں اسکولوں، طبی مراکز اور کمیونٹی ویکسینیشن پوائنٹس پر اہل بچوں کو بوسٹر خوراک دیں گی۔ ہدف بنائی گئی یونین کونسلوں میں پانچ سے 10 سال عمر کے بچوں کو اورل پولیو ویکسین کے قطرے بھی دیے جائیں گے۔ حکام نے والدین سے کہا ہے کہ وہ مقررہ عمر کے تمام بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنائیں۔

ضلعی ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے مہم کے لیے 1,728 تربیت یافتہ پولیو ٹیمیں اور 1,383 سوشل موبلائزر تعینات کیے ہیں۔ ویکسینیشن عملے کے لیے سکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ پولیو مہمات کے دوران ٹیموں کی رسائی، والدین کی رضامندی اور سکیورٹی پاکستان کے انسداد پولیو پروگرام کے اہم عملی چیلنجز رہے ہیں، اس لیے موجودہ مہم میں کمیونٹی رابطے کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔

پشاور کے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر نے والدین سے اپیل کی ہے کہ چار ماہ سے 10 سال تک عمر کے بچوں کو بوسٹر خوراک ضرور دلوائیں تاکہ انہیں پولیو کے باعث مستقل معذوری کے خطرے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے مذہبی علما، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی مہم کی حمایت اور اہل بچوں تک رسائی میں مدد کی درخواست کی۔

پاکستان میں پولیو وائرس کا خاتمہ صحت عامہ کی اہم ترجیح ہے اور ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی اس بات کا اشارہ سمجھی جاتی ہے کہ بظاہر کیسز محدود ہونے کے باوجود وائرس کمیونٹی میں گردش کر سکتا ہے۔ پشاور کی موجودہ مہم ایک مخصوص ہائی رسک مداخلت ہے؛ اس کی کامیابی کا عملی جائزہ ہدف شدہ بچوں کی ویکسینیشن، رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی اور بعد کے ماحولیاتی و طبی نگرانی کے نتائج سے کیا جائے گا۔