پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی متعدد آئینی درخواستوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مقدمات کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔ یہ عدالتی کارروائی صوبے میں 11 اکتوبر کو نافذ کیے گئے اقدامات کے آئینی جواز سے متعلق جاری قانونی تنازع کا اہم مرحلہ ہے۔
دو رکنی بینچ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل تھا۔ عدالت کے سامنے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی درخواست کے علاوہ شاندانہ گلزار، خیبر پختونخوا بار کونسل اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ رہنماؤں کی درخواستیں بھی زیر سماعت آئیں۔ درخواست گزاروں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو آئینی تقاضوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی استدعا کی ہے۔ یہ درخواست گزاروں کا قانونی مؤقف ہے، جس پر حتمی عدالتی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی حکومت، خیبر پختونخوا حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری کرنے کی بات کی۔ مقدمے کی آئندہ سماعت میں حکومتی فریقوں کے تحریری یا قانونی جوابات سامنے آنے کی توقع ہے، جس کے بعد عدالت آئینی نکات پر مزید غور کرے گی۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ وفاقی اور صوبائی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا تھا۔ تاہم زیر سماعت مقدمات میں بنیادی سوال سیاسی اختلاف سے الگ ہو کر یہ ہے کہ متعلقہ اقدامات کے لیے آئین میں مقرر کردہ شرائط اور طریقۂ کار کی پابندی ہوئی یا نہیں۔ درخواست گزاروں کے وکلا اسی نکتے پر عدالتی جانچ چاہتے ہیں، جبکہ حکومتی موقف تفصیلی جواب کے بعد زیادہ واضح ہوگا۔
عدالت نے اس مرحلے پر اقدامات کو کالعدم قرار نہیں دیا اور نہ ہی درخواست گزاروں کے دعووں کو حتمی طور پر درست تسلیم کیا ہے۔ نوٹس کا اجرا فریقین سے جواب لینے کی عدالتی کارروائی ہے۔ اس لیے مقدمے کے نتیجے سے متعلق کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ 10 نومبر کی سماعت میں عدالت کے سامنے آئینی اور قانونی دلائل کا اگلا مرحلہ متوقع ہے۔

