لاہور: پنجاب اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس آئندہ پانچ ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 10 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ معلومات مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے بعد ہونے والی عمومی بحث کے دوران سامنے آئیں، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے گندم، آٹے کی قیمتوں، کسانوں کی صورتحال اور ترقیاتی اخراجات سے متعلق مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔

اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سرکاری ذخائر موجود ہونے کے باوجود صارفین کو قیمتوں میں دباؤ کیوں محسوس ہورہا ہے۔ حکومتی جانب سے بتایا گیا کہ دستیاب گندم کا ذخیرہ تقریباً پانچ ماہ کے لیے کافی ہے۔ اس دعوے کا عملی اثر مارکیٹ میں رسد، سرکاری اجرا کی پالیسی، ملوں تک گندم کی فراہمی اور آٹے کی قیمتوں کے انتظام سے جڑا ہوگا۔

اسمبلی میں گنے کی کرشنگ کے سیزن کے بروقت آغاز، نجی منڈیوں میں مبینہ دھوکا دہی، کسانوں کو درپیش مسائل اور سرکاری اخراجات پر بھی بحث ہوئی۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اخراجات سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے کی، جبکہ کارروائی مقررہ وقت سے تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔

گندم پاکستان میں بنیادی غذائی جنس ہے اور اس کی قیمت براہ راست آٹے اور گھریلو خوراک کے اخراجات کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے سرکاری ذخائر کی مقدار کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ انہیں کس وقت اور کس طریقے سے مارکیٹ میں جاری کیا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت کا پانچ ماہ کی ضرورت کے لیے ذخیرہ موجود ہونے کا بیان رسد کے حوالے سے اطمینان دلانے کی کوشش ہے، لیکن قیمتوں میں استحکام کا انحصار ذخیرے کے مؤثر انتظام، نجی مارکیٹ کی صورتحال، نقل و حمل، ملنگ لاگت اور نئی فصل کے امکانات سمیت کئی عوامل پر ہوگا۔ اسمبلی میں اٹھائے گئے تحفظات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ذخیرہ اور صارفین کو ملنے والی قیمت دو الگ پالیسی چیلنج ہیں۔