کوئٹہ: پاکستان آرمی ایوی ایشن کا مشاق تربیتی طیارہ پیر 12 اکتوبر کو بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار دونوں پائلٹ جان کی بازی ہار گئے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے ایک بیان میں واقعے اور دونوں افسران کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حادثہ دوپہر کے وقت نواں کلی کے قریب پیش آیا۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔ بیان میں شہید ہونے والے افسران کی شناخت میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد کے نام سے کی گئی ہے۔ میجر حسنین شہزاد ہمایوں تربیتی پرواز میں انسٹرکٹر پائلٹ جبکہ کیپٹن عبدالصمد زیر تربیت پائلٹ کی حیثیت سے موجود تھے۔
فوج کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات میں تکنیکی خرابی کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم خرابی کی نوعیت، پرواز کے دورانیے اور حادثے کے تفصیلی تکنیکی اسباب کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔ اس لیے دستیاب معلومات سے کسی اضافی وجہ یا ذمہ داری کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ حادثے سے متعلق غیر مصدقہ دعووں کو سرکاری بیان کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے دونوں پائلٹوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حادثے پر افسوس ظاہر کیا اور شہید افسران کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔
فوجی تربیتی پروازوں میں پیش آنے والے حادثات کے تناظر میں رواں سال جون کے دو واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔ ایک واقعے میں مظفرآباد کے قریب آرمی ایوی ایشن کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر ٹیک آف کے دوران حادثے کا شکار ہوا، جبکہ دوسرے واقعے میں مردان کے قریب پاک فضائیہ کے تربیتی طیارے کے حادثے میں دو پائلٹ شہید ہوئے تھے۔ ان واقعات کا ذکر صرف سابقہ پس منظر کے طور پر کیا جارہا ہے؛ موجودہ حادثے کی وجوہ کو ان سے منسلک کرنے کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
کوئٹہ کے حادثے میں دو تربیت یافتہ فوجی اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ اس مرحلے پر مستند تفصیلات آئی ایس پی آر کے بیان اور اس کی بنیاد پر جاری سرکاری اطلاعات تک محدود ہیں۔
