کوئٹہ: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ پیر 12 اکتوبر 2026 کو آرمی ایوی ایشن کا ایک مشاق تربیتی طیارہ کوئٹہ کے علاقے نواں کلی کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔ فوجی ترجمان کے مطابق حادثہ دوپہر کے وقت پیش آیا اور اس کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی گئی ہے۔ طیارے میں موجود دونوں پائلٹ جانبر نہ ہوسکے۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق حادثے میں شہید ہونے والوں میں میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد شامل ہیں۔ میجر حسنین شہزاد ہمایوں تربیتی پرواز میں انسٹرکٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ کیپٹن عبدالصمد زیرِ تربیت پائلٹ تھے۔ اس طرح حادثے میں ایک تجربہ کار تربیت کار اور ایک زیرِ تربیت افسر دونوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

فوجی ترجمان نے واقعے کے ابتدائی بیان میں تکنیکی خرابی کو حادثے کا سبب قرار دیا ہے۔ دستیاب بیان میں خرابی کی نوعیت، طیارے کی پرواز کے دورانیے یا کسی تفصیلی تکنیکی تحقیقات کے نتائج کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اس لیے حادثے کی وجوہ کے بارے میں ابتدائی سرکاری مؤقف سے آگے کوئی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

صدر آصف علی زرداری نے دونوں پائلٹوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی حادثے پر دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید پائلٹوں کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ غم کی اس گھڑی میں حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ واقعہ فوجی تربیتی پروازوں کی سلامتی کے حوالے سے ایک اور افسوس ناک پیش رفت ہے۔ اس سے پہلے بھی رواں سال جون میں مظفرآباد کے قریب آرمی ایوی ایشن کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا تھا، جبکہ اسی مہینے مردان میں پاک فضائیہ کے تربیتی طیارے کے حادثے میں دو پائلٹ شہید ہوئے تھے۔ تاہم ان واقعات کا موجودہ حادثے سے کوئی براہِ راست تکنیکی تعلق ثابت نہیں کیا گیا۔

کوئٹہ کے واقعے کے بارے میں فی الحال قابلِ تصدیق معلومات آئی ایس پی آر کے بیان اور حکومتی شخصیات کے تعزیتی پیغامات تک محدود ہیں۔ کسی آئندہ تحقیق یا مزید سرکاری تفصیلات سے حادثے کی مکمل صورتِ حال واضح ہوسکے گی۔