اسلام آباد/استنبول: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل علاقائی چار (R4) گروپ کے وزرائے خارجہ نے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ استنبول میں اجلاس کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کے جاری تنازعات، بحری راستوں کی سلامتی اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے 24 اکتوبر کو اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ شریک ہوئے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق شرکا نے امریکا/اسرائیل اور ایران کے تنازع، اسرائیل فلسطین مسئلے اور مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی ضرورت، سعودی عرب اور یمن کی حکومت کے خلاف حوثی حملوں، جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بڑھتی کشیدگی اور بحیرہ اسود کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ علاقائی تنازعات کو بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے حل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ اعلامیے میں متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق زیر التوا تنازعات کے پائیدار اور مذاکراتی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ شرکا نے علاقائی سلامتی کے ساتھ ان بحرانوں کے اقتصادی اور تجارتی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی رابطہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ اجلاس R4 کے دائرے کو یورپی شراکت داروں کے ساتھ وسیع رابطے کی سمت لے جانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ وزارت خارجہ کی ایک روز قبل کی بریفنگ کے مطابق R4 میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر شامل ہیں، جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی E3 کے طور پر شریک ہوئے اور اٹلی بھی اجلاس میں شامل ہوا۔ اس فارمیٹ میں وسیع تر ملاقات پہلی مرتبہ ہوئی۔
مشترکہ اعلامیے میں کسی جنگ کے فوری خاتمے یا کسی فریق کے ساتھ نئے معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا، بلکہ سفارتی رابطہ، تنازعات کی روک تھام اور امن و استحکام کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزرا نے اس فارمیٹ میں مکالمہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ مستقبل میں بحرانوں کی روک تھام اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں آگے بڑھائی جا سکیں۔

