استنبول: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پر مشتمل R4 گروپ نے آبنائے ہرمز میں قانونی جہاز رانی کے لیے محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ کیا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں علاقائی صورت حال پر مشاورت کے دوران خلیج کی سلامتی اور عالمی توانائی و تجارتی راستوں کے تحفظ کو اہم قرار دیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شامل ہے اور خلیجی ممالک سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ یہاں جہاز رانی میں رکاوٹ یا سکیورٹی خطرات توانائی کی عالمی قیمتوں، انشورنس لاگت اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان بھی درآمدی توانائی پر انحصار کے باعث خلیج میں کشیدگی کے معاشی اثرات سے براہ راست متاثر ہوسکتا ہے۔

R4 ممالک نے ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تنازع کے مزید پھیلاؤ سے بچنے کی اپیل کی۔ گروپ کی سفارتی سرگرمی کا مقصد علاقائی طاقتوں اور مغربی ممالک کے درمیان رابطے کے راستے کھلے رکھنا اور ایسا سیاسی حل تلاش کرنا ہے جو وسیع جنگ کے خطرے کو کم کرے۔ استنبول اجلاس میں یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ بھی علاقائی پیش رفت پر بات چیت ہوئی۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران خلیجی ریاستوں کے لیے توانائی تنصیبات، بندرگاہوں اور بحری راستوں کا تحفظ بنیادی ترجیح ہے۔ کسی بھی فوجی تصادم میں توسیع سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے R4 کا زور فوری طور پر مذاکرات، محفوظ نیویگیشن اور ایسے اقدامات سے گریز پر ہے جو مزید عسکری ردعمل کا سبب بنیں۔

R4 کا بیان کسی حتمی امن معاہدے یا امریکا ایران مذاکرات کی باضابطہ بحالی کی تصدیق نہیں کرتا۔ یہ چار علاقائی ممالک کی مشترکہ سفارتی پوزیشن ہے، جس کی کامیابی متعلقہ فریقوں کی آمادگی اور زمینی صورت حال پر منحصر ہوگی۔ تاہم پاکستان کی اس گروپ میں شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ اسلام آباد خلیجی بحران کے سفارتی حل اور توانائی راستوں کے تحفظ کو اپنی علاقائی اور معاشی سلامتی سے جڑا ہوا سمجھتا ہے۔