راولپنڈی: ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی فار اسکولز نے ضلع بھر کے غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے انہیں ایک ہفتے کے اندر رجسٹریشن مکمل کرنے کی مہلت دے دی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد رجسٹریشن کے بغیر کام کرنے والے اسکولوں کو مستقل طور پر سیل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے گا۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی نے غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کو ریڈ نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ضلع میں نجی تعلیمی اداروں کو قانونی رجسٹریشن کے دائرے میں لانا اور عمارتوں، سہولیات اور حفاظتی انتظامات سے متعلق مقررہ شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔
اجلاس میں نجی اسکولوں کے ساتھ سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کے تھرڈ پارٹی سیفٹی آڈٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ اس مقصد کے لیے باضابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے جو تعلیمی عمارتوں کی حفاظت سے متعلق معاملات کا جائزہ لے گی۔ اس فیصلے کے تحت صرف رجسٹریشن ہی نہیں بلکہ عمارتوں کے محفوظ استعمال اور بنیادی حفاظتی تقاضوں کی جانچ بھی انتظامی کارروائی کا حصہ ہوگی۔
اتھارٹی نے 34 نئے نجی اسکولوں کی رجسٹریشن کی منظوری بھی دی ہے۔ ان اداروں کو آئی ٹی اور سائنس لیبارٹریاں قائم کرنے اور متعلقہ سرٹیفکیٹس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس شرط کا مقصد نئے رجسٹر ہونے والے اداروں میں بنیادی تدریسی سہولیات کی دستیابی کو دستاویزی شکل دینا ہے۔
اہم اجلاس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر برائے سوشل سروسز فضل مدثر نے کی۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم اور محکمہ بلڈنگز کے حکام کے علاوہ نجی اسکولوں کی انجمنوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ دستیاب رپورٹ میں ضلع بھر کے غیر رجسٹرڈ اسکولوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی گئی، اس لیے کارروائی کے ممکنہ دائرہ کار کے بارے میں کوئی اضافی عدد اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
ایک ہفتے کی مہلت کے بعد مجوزہ سیلنگ کارروائی کا عملی حجم اس بات پر منحصر ہوگا کہ کتنے ادارے مقررہ مدت میں رجسٹریشن کی شرائط پوری کرتے ہیں۔ حکام کی موجودہ ہدایت ایک انتظامی ڈیڈ لائن ہے؛ کسی مخصوص اسکول کے مستقل سیل ہونے کی تصدیق اسی وقت ہوگی جب مہلت ختم ہونے کے بعد متعلقہ اتھارٹی باضابطہ کارروائی کرے گی۔

