اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر لانے اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تیار ہے۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے معاملے کو دیگر سیاسی مطالبات سے الگ رکھا جائے تاکہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنج پر مشترکہ لائحہ عمل بنایا جا سکے۔
رانا ثنااللہ کے مطابق اگر سیاسی جماعتیں اس مسئلے پر بیٹھنے پر آمادہ ہوں تو وزیراعظم شہباز شریف انہیں مدعو کرنے اور آگے بڑھنے کا متفقہ راستہ تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں اس امر پر بھی اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو پوری قوم کی حمایت کیسے حاصل ہو اور ریاستی اقدامات کو سیاسی تقسیم سے بالاتر کیسے رکھا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں دہشت گردی اور سکیورٹی پالیسی کے بارے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات موجود ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر تعاون ضروری ہے، جبکہ حزب اختلاف مختلف سیاسی اور آئینی معاملات پر حکومت سے اختلاف رکھتی ہے۔ رانا ثنااللہ نے اسی تناظر میں اپوزیشن پر زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے سوال کو دیگر تنازعات کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے۔
مشیر وزیراعظم کا بیان کسی نئے فوجی آپریشن کے اعلان یا کسی مخصوص کارروائی کی منظوری نہیں ہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور اتفاق رائے کی پیشکش کی ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر اسے انسداد دہشت گردی پالیسی میں کسی حتمی تبدیلی کے بجائے حکومت کی جانب سے سیاسی مذاکرات کی آمادگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی طویل عرصے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سکیورٹی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون کا تقاضا کرتی رہی ہے۔ پارلیمانی حمایت کو اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ قانون سازی، مالی وسائل، صوبائی انتظامیہ اور عوامی اعتماد بھی جڑے ہوتے ہیں۔ رانا ثنااللہ کے بیان کے بعد اب یہ واضح ہونا باقی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ اجلاس یا کسی باضابطہ مذاکراتی عمل میں شرکت پر آمادہ ہوتی ہیں یا نہیں۔
حکومت کی جانب سے اس پیشکش کی عملی شکل، اجلاس کی ممکنہ تاریخ، شرکا اور ایجنڈا تاحال سامنے نہیں آئے۔ کسی باضابطہ دعوت یا متفقہ فریم ورک کی صورت میں ہی یہ طے ہو سکے گا کہ سیاسی اتفاق رائے کی کوشش کس سمت آگے بڑھتی ہے۔

