کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں مختلف اقسام کے مالیاتی اداروں کے قیام اور لائسنس کے حصول کے لیے ضابطہ جاتی تقاضوں کو ایک ہی جامع لائسنسنگ ہینڈ بک میں یکجا کردیا ہے۔ نئی دستاویز میں روایتی بینک، اسلامی بینک، ڈیجیٹل بینک، مائیکروفنانس بینک، ایکسچینج کمپنیاں، الیکٹرانک منی ادارے، ادائیگی سروس فراہم کنندگان اور نجی کریڈٹ بیوروز سمیت متعدد کاروباری ماڈلز کے لیے درخواست اور منظوری کے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔

مرکزی بینک کے مطابق ہینڈ بک کا مقصد درخواست دہندگان کو مختلف سرکلرز اور ضابطوں میں بکھری ہوئی معلومات کے بجائے ایک مربوط حوالہ فراہم کرنا ہے۔ اس میں ابتدائی اجازت، اسپانسرز اور شیئر ہولڈرز کی اہلیت، سرمایہ کی کم از کم ضروریات، انتظامیہ کے fit-and-proper معیار، کاروباری منصوبے، ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی انتظامات، رسک مینجمنٹ اور حتمی آپریشنل لائسنس سے متعلق بنیادی تقاضے شامل کیے گئے ہیں۔

ڈیجیٹل مالیاتی خدمات میں تیزی سے توسیع کے باعث لائسنسنگ کا دائرہ روایتی بینکاری سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ الیکٹرانک منی ادارے اور ادائیگی سروس فراہم کنندگان صارفین کی رقم، ڈیجیٹل والیٹس اور ادائیگی انفراسٹرکچر سے منسلک ہوتے ہیں، جبکہ نجی کریڈٹ بیوروز قرض لینے والوں کے کریڈٹ ریکارڈ سے متعلق حساس معلومات سنبھالتے ہیں۔ اس لیے ان شعبوں کے لیے سرمایہ، گورننس، ڈیٹا تحفظ اور آپریشنل تسلسل کی شرائط مالیاتی استحکام اور صارف تحفظ دونوں کے لیے اہم ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ جامع ہینڈ بک بنیادی طور پر موجودہ ضابطہ جاتی تقاضوں کو منظم اور قابل رسائی شکل میں پیش کرتی ہے اور متعلقہ قوانین، قواعد اور مستقبل میں جاری ہونے والی ہدایات بدستور نافذ رہیں گی۔ کسی بھی درخواست کی منظوری صرف دستاویزات جمع کرانے سے خودکار طور پر نہیں ہوگی؛ مرکزی بینک ہر مجوزہ ادارے کی ملکیت، سرمایہ، انتظامی صلاحیت، کاروباری ماڈل اور ضابطہ جاتی خطرات کا جائزہ لے گا۔ نئے فریم ورک سے متوقع فائدہ یہ ہے کہ مالیاتی شعبے میں داخل ہونے کے خواہش مند سرمایہ کار اور کمپنیاں درخواست سے پہلے اپنی ذمہ داریوں اور مطلوبہ مراحل کو زیادہ واضح طور پر سمجھ سکیں گی۔