کراچی: سندھ حکومت نے ’سندھ یوتھ کارڈ‘ کے اجرا کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور صوبائی حکام کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری رواں ماہ اس پروگرام کا افتتاح کریں گے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں صوبے کے تمام 30 اضلاع سے 16 سے 29 سال عمر کے ایک لاکھ نوجوانوں کو کارڈ فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
سندھ کے وزیر کھیل و امور نوجوانان سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت اجلاس میں پروگرام کے انتظامات اور نوجوانوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے آئی ٹی علی راشد، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔ حکام کو بتایا گیا کہ سرکاری اور نجی اداروں کے تعاون سے مختلف خدمات ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق یوتھ کارڈ کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپس اور انٹرن شپ کے مواقع تک رسائی دی جائے گی۔ اجلاس میں گرین لائن، اورنج لائن اور پیپلز بس سروس سمیت عوامی ٹرانسپورٹ میں رعایت دینے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ اسی طرح پاکستان ریلویز کے تمام روٹس پر 25 فیصد رعایت اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تعاون سے اندرون ملک فضائی سفر پر خصوصی رعایت کی تجاویز پر بھی بات کی گئی۔ یہ سہولتیں ابھی متعلقہ اداروں کے ساتھ معاہدوں اور عملی انتظامات سے مشروط ہیں۔
حکام نے بتایا کہ پروگرام میں خواتین کاروباری افراد کے لیے خصوصی گرانٹس اور مالی معاونت شامل کرنے کی تجویز بھی موجود ہے۔ کارڈ کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل رجسٹری اور تصدیق شدہ شناختی نظام قائم کیا جائے گا تاکہ مستحق نوجوانوں کی رجسٹریشن اور خدمات کی فراہمی کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کیا جا سکے۔
منصوبے میں 13 سرکاری محکموں اور دیگر اداروں کی خدمات شامل کرنے کا ہدف بیان کیا گیا ہے۔ تاہم ہر سہولت کی حتمی شرائط، رعایت کی شرح، درخواست کا مکمل طریقہ کار اور اجرا کی حتمی تاریخ سے متعلق تفصیلات ابھی سرکاری سطح پر مکمل طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے پروگرام کے اعلان کردہ فوائد کو ان انتظامی اور ادارہ جاتی معاہدوں کے تناظر میں دیکھا جائے گا جو لانچ سے قبل یا بعد میں طے ہوں گے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یوتھ کارڈ کا مقصد تعلیم، تربیت، روزگار سے متعلق مواقع اور نقل و حمل کی سہولتوں کو نوجوانوں کے لیے زیادہ قابل رسائی بنانا ہے۔ پہلے مرحلے کی کارکردگی اور رجسٹریشن کے نتائج سے یہ واضح ہوگا کہ پروگرام کو بعد میں کتنے مزید نوجوانوں تک توسیع دی جا سکتی ہے۔

