اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاع پر کیے گئے آپریشن کے دوران چھ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ کارروائی ہفتے کو ضلع کے عمومی علاقے زرکانی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی تھی۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ہدف کے مقام کو مؤثر انداز میں گھیرے میں لیا اور فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔ فوج نے ہلاک افراد کو ریاستی اصطلاح میں فتنہ الخوارج سے وابستہ قرار دیا۔ حکام کے مطابق جائے وقوع سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا اور ہلاک دہشت گرد سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے خلاف متعدد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔
آپریشن کے دوران 36 سالہ نائیک غلام مرتضیٰ، جن کا تعلق گجرات سے تھا، اور 30 سالہ سپاہی تاثیر احمد، جو تلہ گنگ کے رہائشی تھے، فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے دونوں اہلکاروں کی خدمات اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کارروائی کے دوران جان کی قربانی دی۔
فوجی بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ یہ کارروائی ملک میں جاری انسداد دہشت گردی مہم کے تناظر میں کی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں دہشت گردوں کے لیے بھارت سے سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا؛ یہ پاکستانی فوج کا سرکاری مؤقف ہے اور اس مخصوص کارروائی سے متعلق آزادانہ طور پر پیش کیے گئے ثبوت کی تفصیل بیان میں فراہم نہیں کی گئی۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبر پختونخوا کے دیگر جنوبی اضلاع حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز کے انسداد دہشت گردی آپریشنز کا اہم مرکز رہے ہیں۔ حکام مختلف کارروائیوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر اہداف کی نشاندہی اور بعد ازاں علاقے کی کلیئرنس کی حکمت عملی اختیار کرتے رہے ہیں۔
تازہ کارروائی میں ہلاکتوں اور برآمد شدہ اسلحے سے متعلق بنیادی تفصیلات آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں۔ حکام نے آپریشن کے بعد علاقے میں مزید تلاشی جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ شہید اہلکاروں کے آبائی علاقوں اور ان کی عمروں کی تفصیلات بھی فوجی بیان میں جاری کی گئیں۔

