اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری محکموں کی جانب سے سروس معاملات میں بار بار اور غیر ضروری مقدمہ بازی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاستی اداروں کو ایک ذمہ دار فریق کی طرح قانونی تنازعات نمٹانے چاہئیں، نہ کہ ہر مرحلے پر اپیلوں اور نئی کارروائیوں کے ذریعے ملازمین کو طویل غیر یقینی میں رکھنا چاہیے۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سامنے آنے والے فیصلے میں سرکاری اداروں کے طرزِ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ عدالتی عمل عوامی وسائل سے چلتا ہے اور ریاستی محکموں پر اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بے مقصد یا تکراری مقدمہ بازی سے گریز کریں۔ عدالت نے ایسے رویے کو عدالتی وقت اور سرکاری خزانے دونوں پر بوجھ قرار دیا۔
سروس مقدمات عموماً تقرری، ترقی، سینیارٹی، تنخواہ، پنشن یا ملازمت سے متعلق دیگر حقوق کے تنازعات سے پیدا ہوتے ہیں۔ جب کسی معاملے پر مجاز فورم یا عدالت واضح فیصلہ دے چکی ہو تو اسی بنیادی تنازع کو مختلف قانونی راستوں سے بار بار اٹھانا ملازم کے لیے مالی اور ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے اور انتظامی نظام میں بھی غیر یقینی پیدا کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس اصول کو اجاگر کیا کہ حکومت اور اس کے ادارے عام نجی فریق کی طرح محض قانونی کامیابی حاصل کرنے کے لیے مقدمہ بازی نہیں کر سکتے۔ ریاست سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ منصفانہ، مستقل اور قانون کے مطابق طرز عمل اختیار کرے۔ اگر کسی عدالتی حکم یا قانونی اصول سے متعلق حقیقی اور اہم سوال موجود ہو تو اپیل کا حق برقرار رہتا ہے، لیکن محض معاملہ طول دینے کے لیے قانونی چارہ جوئی قابل قبول نہیں۔
فیصلے کا وسیع تر اثر وفاقی اور صوبائی محکموں کی قانونی حکمت عملی پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ سرکاری ادارے ہر سال بڑی تعداد میں سروس کیسز میں فریق بنتے ہیں۔ غیر ضروری مقدمات کم ہونے سے عدالتوں پر بوجھ میں کمی اور ملازمین کے معاملات جلد نمٹانے میں مدد مل سکتی ہے۔
عدالت کی آبزرویشنز یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ سرکاری قانونی شعبوں اور انتظامی حکام کو کسی مقدمے میں اپیل یا مزید کارروائی سے پہلے اس کے قانونی جواز، سابقہ فیصلوں اور ممکنہ عوامی لاگت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کا عملی انداز متعلقہ محکموں کی داخلی قانونی پالیسی اور مستقبل میں عدالتوں کے سامنے آنے والے مقدمات سے مزید واضح ہوگا۔

