بیجنگ: چین کے تبت خطے میں 7.0 شدت کے زلزلے سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور 76 زخمی ہوگئے، جبکہ سینکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ چینی حکام نے بلند پہاڑی اور سرد علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاش، امداد اور طبی کارروائیاں شروع کردی ہیں اور 12 ہزار سے زیادہ رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ تقریباً 10 کلومیٹر کی کم گہرائی میں آیا۔ اس کا مرکز باقن کاؤنٹی کے مارو ٹاؤن شپ کے پہاڑی علاقے میں تھا، جو ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق-شمال مشرق اور علاقائی دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ کم گہرائی کے زلزلے عموماً سطح پر زیادہ شدید جھٹکے پیدا کرسکتے ہیں، تاہم مقامی نقصان عمارتوں کے معیار اور جغرافیائی حالات پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

مقامی حکام نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد 76 تک پہنچ گئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق 300 سے زیادہ مکانات منہدم ہوئے، جبکہ چینی سرکاری نشریاتی ادارے CCTV نے 339 گھروں کے منہدم یا متاثر ہونے کی اطلاع دی۔ علاقے میں سطح تین کی زلزلہ ہنگامی کارروائی فعال کی گئی ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے حکام کو مکمل طاقت کے ساتھ سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں کرنے، زخمیوں کے علاج اور متاثرہ آبادی تک امدادی سامان و ریسکیو آلات فوری پہنچانے کی ہدایت کی۔ چین کے زلزلہ نیٹ ورک مرکز کے مطابق مرکزی جھٹکے کے بعد 413 آفٹر شاک ریکارڈ کیے گئے۔ باقن کاؤنٹی میں 1,600 سے زیادہ افراد امدادی سرگرمیوں کے لیے متحرک کیے گئے ہیں۔

سرکاری فوٹیج میں عمارتوں کے اندر اشیا گرتی دکھائی دیں جبکہ ریسکیو کارکن تباہ شدہ ڈھانچوں میں تلاش اور زخمیوں کو منتقل کرتے نظر آئے۔ بلند مقام، سرد موسم اور آفٹر شاکس امدادی کاموں کے لیے اضافی چیلنج پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے حکام نے متاثرہ آبادی کی عارضی رہائش اور فوری ضروریات پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔

پاکستانی قیادت نے بھی چین سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ، متاثرہ خاندانوں اور چینی عوام سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر ممکن معاونت کے لیے تیار ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی جانی نقصان پر افسوس اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہلاکتوں اور نقصانات کے اعداد امدادی کارروائی جاری رہنے کے باعث مزید اپ ڈیٹ ہوسکتے ہیں۔