برلن: صدر آصف علی زرداری نے جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ملاقات برلن میں ہوئی اور ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے دوطرفہ روابط کو نئی سمت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستانی صدر نے جرمنی کو یورپ میں پاکستان کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت اور تکنیکی تعاون کے امکانات اجاگر کیے۔ جرمنی یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت ہے اور پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے اہم منڈیوں میں شامل ہے۔ دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں ٹیکسٹائل، صنعتی مصنوعات، مشینری، توانائی اور ترقیاتی تعاون نمایاں شعبے ہیں۔
ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرمن صدر نے تنازعات کے حل اور سفارتی کوششوں میں پاکستان کے بڑھتے کردار کو سراہا۔ پاکستان حالیہ علاقائی کشیدگیوں میں سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ جرمنی یورپی اور کثیرالجہتی فورمز پر اہم سفارتی کردار رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے لیے عالمی امن، تجارت اور موسمیاتی چیلنجز جیسے موضوعات مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
صدر زرداری نے موجودہ سیاسی تعلقات کے ساتھ اقتصادی تعاون کو زیادہ عملی نتائج میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور جرمن کمپنیوں کی انجینئرنگ، قابل تجدید توانائی، صنعتی ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کے شعبوں میں مہارت کو اہم سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستانی برآمدات کے لیے یورپی منڈی تک رسائی اور تجارتی معیار کی پابندی بھی دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ملاقات میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار ہوا، تاہم کسی بڑے نئے تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس پیش رفت کی اہمیت اعلیٰ سطح کے سیاسی رابطے اور مستقبل کے تعاون کے لیے سمت متعین کرنے میں ہے۔ عملی نتائج کا انحصار بعد کے سرکاری مذاکرات، کاروباری روابط اور مخصوص منصوبوں پر ہوگا۔ سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ دونوں ممالک کو موجودہ شراکت داری کا جائزہ لے کر نئے اقتصادی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

