خبروں کا سلسلہ

تمام موضوعات

جاری اور سابقہ واقعات کی مکمل کوریج۔

عالمی تجارتی تنظیم کی 2026 کے لیے اشیا کی تجارت کی نمو کا تجزیہ
کاروبار

عالمی تجارتی تنظیم کی 2026 کے لیے اشیا کی تجارت کی نمو کا تجزیہ

عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے اکتوبر میں 2026 کے لیے عالمی اشیا کی تجارت کے حجم کی نمو کا اندازہ بڑھا کر 3.9 فیصد کر دیا۔ تنظیم نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق آلات، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے سازوسامان کی تیز طلب نے اشیا کی تجارت کو سہارا دیا، جبکہ خدمات کی تجارت کے لیے نمو کا تخمینہ مشرق وسطیٰ کے تنازع اور فضائی ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث کم کر کے 3.3 فیصد کیا گیا۔ رپورٹ میں 2026 کی اشیا کی تجارت میں مصنوعی ذہانت سے متعلق اشیاء کا بڑا حصہ، ایشیا میں تیزتر نمو اور مشرق وسطیٰ میں پیداواری کمی کے خطرات بھی شامل کیے گئے ہیں، اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں، روس-یوکرین جنگ اور سرمایہ کاری میں سست روی کو آئندہ خطرات قرار دیا گیا ہے۔

برطانیہ: 10 سالہ سرکاری بانڈ (گلٹ) کی پیداوار جولائی 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچنا
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

برطانیہ: 10 سالہ سرکاری بانڈ (گلٹ) کی پیداوار جولائی 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچنا

عالمی بانڈ مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث برطانیہ کے دس سالہ حکومتی بانڈ (گلٹ) کی پیداوار 5.527 فیصد تک جا پہنچی، جو جولائی 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی دوران بیس اور تیس سالہ سرکاری بانڈ کی پیداوار بھی کئی دہائیوں کی بلند سطحیں، بالترتیب تقریباً 6 فیصد اور 6.05 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں توانائی کی منڈی پر خلیج میں جہاز رانی پر حملوں اور امریکہ میں طوفان کے سبب پیدا شدہ رسد کے خدشات کو اس دباؤ کا اہم سبب قرار دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے پیداوار میں اضافہ سرکاری قرض پر مستقبل کی نئی قرض گیری کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔

بھارت: یو پی آئی ادائیگیوں پر تاجروں سے فیس کے نفاذ میں تاخیر پر غور (اکتوبر 2026)
ٹیکنالوجیمسلسل اپ ڈیٹس

بھارت: یو پی آئی ادائیگیوں پر تاجروں سے فیس کے نفاذ میں تاخیر پر غور (اکتوبر 2026)

رائٹرز کے مطابق بھارتی حکام یو پی آئی پر دو ہزار بھارتی روپے سے زائد ادائیگیوں پر تاجروں سے 0.4 فیصد فیس نافذ کرنے کے منصوبے کو چند ماہ مؤخر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ فیس 15 اکتوبر سے نافذ ہونے کا اعلان کیا گیا تھا مگر نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا نے حتمی فیصلہ نہیں کیا؛ بعض ذرائع نے جنوری کو ممکنہ نئی تاریخ بتائی مگر یہ سرکاری نوٹیفکیشن نہیں تھا۔ ممکنہ تاخیر سے ادائیگی کمپنیوں کو تکنیکی تبدیلیاں کرنے اور تاجروں کو اخراجات ایڈجسٹ کرنے کی مہلت مل سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اقدام کے اعلان سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا، اور اب تک حتمی نفاذ یا حتمی تاریخ کی تصدیق شامل نہیں تھی۔

بھارت: ووٹر فہرستوں کی نظرثانی پر اپوزیشن کا احتجاج اور الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
دنیامسلسل اپ ڈیٹس

بھارت: ووٹر فہرستوں کی نظرثانی پر اپوزیشن کا احتجاج اور الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ

نئی دہلی میں 7 اکتوبر 2026 کو ووٹر فہرستوں کی متنازعہ نظرثانی کے خلاف کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے مظاہروں میں رہنما راہول گاندھی، پریانکا گاندھی واڈرا اور متعدد قانون سازوں کو پولیس نے عارضی طور پر حراست میں لیا۔ اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا جبکہ انتخابی کمیشن اور حکمران جماعت بی جے پی نے بے ضابطگی کے الزامات کو رد کر دیا۔ رپورٹ میں کسی عدالت یا ادارے کی طرف سے انتخابی دھاندلی یا کمشنر کی معزولی کا کوئی فیصلہ نہیں بتایا گیا۔

یورپی مرکزی بینک کے ممکنہ دسمبر 2026 میں شرح سود میں اضافے کی پیشگوئیاں (رائٹرز سروے)
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

یورپی مرکزی بینک کے ممکنہ دسمبر 2026 میں شرح سود میں اضافے کی پیشگوئیاں (رائٹرز سروے)

رائٹرز کے سروے میں 73 ماہرین اقتصادیات میں سے 64 نے امکان ظاہر کیا کہ یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) دسمبر 2026 میں پالیسی شرح سود میں 25 بنیاد پوائنٹس اضافہ کر سکتا ہے۔ سروے میں زیادہ تر نے توقع ظاہر کی کہ 29 اکتوبر کے اجلاس میں ڈپازٹ شرح 2.50 فیصد پر برقرار رہے گی۔ ستمبر میں یورو زون کی افراط زر 3.8 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ سروے کے شرکاء نے دسمبر کے بعد مزید شرح بڑھنے کے امکانات اور مختلف بلند ترین سطحوں کے تخمینے بھی دیے؛ تاہم یہ پیشگوئیاں ماہرین کی رائے ہیں، ای سی بی کا باضابطہ فیصلہ نہیں۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر کا شرح سود میں مزید اضافے کے امکان پر تبصرہ
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر کا شرح سود میں مزید اضافے کے امکان پر تبصرہ

فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ مہنگائی کو مرکزی بینک کے دو فیصد ہدف تک لانے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ درکار ہو سکتا ہے، تاہم ہر اجلاس میں اضافہ لازمی نہیں اور فیصلے میں لچک رہے گی۔ والر نے اکتوبر میں ایک خطاب میں کہا کہ اگر معاشی اعداد و شمار مطابق رہے تو بروقت اضافے کے حق میں ہوں گے، مگر حتمی پالیسی فیڈرل ریزرو کی کمیٹی کے اجلاس میں طے ہوگی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ حالیہ معاشی سرگرمی مضبوط ہے اور توانائی کے جھٹکے اور مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبے مہنگائی کے دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر: عالمی معیشت کو توانائی، بڑھتے سرکاری قرض اور مصنوعی ذہانت کے مالیاتی خطرات کا سامنا
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر: عالمی معیشت کو توانائی، بڑھتے سرکاری قرض اور مصنوعی ذہانت کے مالیاتی خطرات کا سامنا

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے سنگاپور میں ایک خطاب میں خبردار کیا کہ عالمی معیشت توانائی کی بلند قیمتوں، ریکارڈ سطح کے سرکاری قرض اور مصنوعی ذہانت میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والے مالیاتی خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات، تیل کی قیمتوں کے قریب 100 ڈالر فی بیرل، ریفائنریوں کی محدود گنجائش اور آبنائے ہرمز سے مائع گیس کی ترسیل کے خطرات کا ذکر کیا اور کہا کہ سردیوں میں مانگ بڑھنے سے صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ جارجیوا نے عالمی سرکاری قرض کے تاریخی بلند ہونے اور 2030 سے پہلے عالمی جی ڈی پی کے مقابلے میں 100 فیصد سے زائد ہونے کے امکانات پر تشویش ظاہر کی، اور کہا کہ حکومتیں درمیانی مدت کے بجٹ اور قرض کے انتظام کے ذریعے مالی استحکام یقینی بنائیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی کمپنیوں کی قیمتوں اور مالیاتی منڈیوں میں ممکنہ جھٹکوں کا بھی انتباہ دیا اور مرکزی بینکوں کی خودمختاری اور قیمتوں کے استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ آئندہ آئی ایم ایف کی نئی عالمی معاشی پیش گوئیاں بعد کے اجلاسوں میں جاری کی جائیں گی۔

جرمنی: 2026-2028 کے لیے سرکاری معاشی ترقی اور مہنگائی کی نئی پیش گوئیاں
کاروبار

جرمنی: 2026-2028 کے لیے سرکاری معاشی ترقی اور مہنگائی کی نئی پیش گوئیاں

جرمن حکومت نے اکتوبر میں 2026 اور 2027 کے لیے اپنی سرکاری معاشی ترقی کی پیش گوئیاں بڑھائیں؛ 2026 کے لیے اقتصادی نمو کا اندازہ اپریل کے 0.5 فیصد سے بڑھا کر 1.3 فیصد اور 2027 کے لیے 0.9 فیصد سے بڑھا کر 1.1 فیصد کیا گیا ہے۔ حکومت نے بنیادی ڈھانچے اور دفاع میں قرض کے ذریعے سرکاری سرمایہ کاری اور برآمدات میں بہتری کو ترقی کی وجوہات بتایا ہے، مگر توانائی کی قیمتوں، بین الاقوامی کشیدگی (مشرق وسطیٰ اور یوکرین) اور کاروباری لاگت کے خطرات برقرار ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں معیشت 0.3 فیصد بڑھی تھی۔ حکومت نے 2026 کے لیے مہنگائی 2.7 فیصد، 2027 کے لیے 3 فیصد اور 2028 کے لیے 2.2 فیصد کا تخمینہ پیش کیا اور صارفین کو ایندھن کے ریلیف کے لیے مختصر مدت ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش گوئیاں حتمی شرحیں نہیں بلکہ حکومتی اندازے ہیں۔

بھارت: 8 اکتوبر 2026 کو اسٹاک مارکیٹ میں سنگین مندی، سینسیکس 32 ماہ کی کم ترین سطح پر
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

بھارت: 8 اکتوبر 2026 کو اسٹاک مارکیٹ میں سنگین مندی، سینسیکس 32 ماہ کی کم ترین سطح پر

8 اکتوبر 2026 کو بھارت کی حصص منڈی میں دباؤ بڑھا اور ممبئی کے سینسیکس اشاریے نے تقریباً 32 ماہ کی کم ترین سطح دیکھی۔ اس روز سینسیکس 1.44 فیصد گر کر 71,593.24 پر بند ہوا جبکہ نفٹی 50 انڈیکس 1.64 فیصد کم ہو کر 22,231.8 پر بند ہوا۔ منڈی دباؤ کی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی بانڈ ییلڈز کی بلند سطح، بھارتی روپے پر دباؤ اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت بتائی گئی; غیر ملکی سرمایہ کاروں نے نو دن میں تقریباََ 469.9 ارب بھارتی روپے کے حصص فروخت کیے، اور سال کے آغاز سے مجموعی انخلا تقریباً 30.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد تک اضافہ اور بھارتی ریزرو بینک کی شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ بھی اس مندی کے پس منظر میں رپورٹ کیا گیا۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری: سرمایہ کاروں کی معاہداتی ضمانتوں کا مطالبہ
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری: سرمایہ کاروں کی معاہداتی ضمانتوں کا مطالبہ

سرمایہ کاروں نے پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کے دوران قانونی اور مالی خطرات سے تحفظ کے لیے واضح اور مضبوط ضمانتیں مانگیں؛ ممکنہ خریدار معاہدوں کے قانونی تحفظ، مالی خطرات کی تقسیم اور طے شدہ شرائط کے برقرار رہنے کے بارے میں یقین دہانی چاہتے ہیں۔ حکومت ریگولیٹری نظام میں پیش گوئی بڑھانے اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو بہتر بنانے پر غور کر رہی ہے اور کثیر ملکی مالیاتی اداروں سے سیاسی خطرات کے خلاف ضمانتوں کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے، مگر کسی سرکاری ضمانت یا منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی دوران وزیر خزانہ نے ریگولیٹری اصلاحات اور سبسڈی ہدف بندی پر اسٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت کی اور سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک کے ٹیرف سے متعلق بعض نیپرا/اپیلیٹ ٹریبونل احکامات معطل کیے؛ عدالت کے فیصلے کا حتمی امر آئندہ سماعت پر منحصر ہے۔

ایم ایل ون: ریلوے لائن اپ گریڈیشن اور ریلوے اراضی کے تجارتی استعمال کی منظوری
پاکستانمسلسل اپ ڈیٹس

ایم ایل ون: ریلوے لائن اپ گریڈیشن اور ریلوے اراضی کے تجارتی استعمال کی منظوری

وزیراعظم شہباز شریف نے ایم ایل ون مرکزی ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن تیز کرنے، ریلوے کے انتظامی و مالی ڈھانچے میں کاروباری طرز کی اصلاحات متعارف کرانے اور ریلوے کی ملکیتی زمینوں کی نشاندہی و واگزاری اور ان کے تجارتی استعمال سے مالی وسائل حاصل کرنے کے منصوبے دو ہفتوں میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایم ایل ون تقریباً 1726 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے؛ کراچی سے روہڑی/سکھر تک کے تقریباً 480 کلومیٹر پر تعمیراتی کام جنوری 2027 میں شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی، جبکہ کراچی‑روہڑی حصے کے لیے بین الاقوامی مالی معاونت استعمال کی جا رہی ہے اور باقی حصوں کے لیے ملکی وسائل کی تیاری زیرِ غور ہے۔ وزیراعظم نے ریلوے اراضی پر تجارتی منصوبوں کے ذریعے بینک فنانسنگ کے اصولی انتظام کی منظوری دی البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مجوزہ قرضے یا منصوبے حتمی طور پر منظور یا شروع ہوچکے ہیں۔

فرانس اور طالبان کے درمیان افغان شہریوں کی واپسی کے انتظامات پر تکنیکی مذاکرات شروع
دنیامسلسل اپ ڈیٹس

فرانس اور طالبان کے درمیان افغان شہریوں کی واپسی کے انتظامات پر تکنیکی مذاکرات شروع

فرانسیسی سفارتی ذریعے کے مطابق پیرس نے افغانستان کے بعض افغان شہریوں کی فرانس میں غیر قانونی قیام یا ملک بدری کے بعد براہِ راست واپسی کے انتظامات کے لیے طالبان حکام کے ساتھ تکنیکی بات چیت شروع کی ہیں۔ مذاکرات کا مقصد ان افراد کی واپسی کے عملی طریقے طے کرنا ہے، جبکہ فرانس نے واضح کیا کہ اس سے طالبان کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے کی پالیسی تبدیل نہیں ہوتی۔ فرانسیسی اور دیگر یورپی ممالک میں بعض حکام خاص طور پر عدالتی سزائیں پانے والے افغان شہریوں کی واپسی کے عمل میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن واپسی کی حتمی تعداد، ممکنہ دوروں یا باقاعدہ شیڈول کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ فرانس نے کہا ہے کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کی حمایت جاری رہے گی اور مذاکرات انسانی حقوق کے تحفظ کے توازن کے سوالات پیدا کرتے ہیں۔