خبروں کا سلسلہ

تمام موضوعات

جاری اور سابقہ واقعات کی مکمل کوریج۔

ایس ای سی پی کی تجویز: نان بینک مائیکرو فنانس کمپنیوں کے لیے مائیکرو انٹرپرائز اور ہاؤسنگ قرض کی حد بڑھانے کی مسودہ ترامیم
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

ایس ای سی پی کی تجویز: نان بینک مائیکرو فنانس کمپنیوں کے لیے مائیکرو انٹرپرائز اور ہاؤسنگ قرض کی حد بڑھانے کی مسودہ ترامیم

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے نان بینک مائیکرو فنانس کمپنیوں کے ذریعے مائیکرو انٹرپرائز اور ہاؤسنگ فنانس کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض کی حد 50 لاکھ روپے تک بڑھانے اور انفرادی قرض گیر کی آمدنی کی حد 12 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے کی تجویز مسودہ قوانین میں شامل کی ہے۔ مسودے میں چھوٹے کاروبار کے سالانہ ٹرن اوور کی حد 3 کروڑ سے 40 کروڑ روپے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے 40 کروڑ سے 2 ارب روپے تک تجویز کی گئی ہے۔ یہ تجاویز عوامی مشاورت کے لیے جاری کی گئی ہیں اور حتمی قواعد مشاورتی عمل کے بعد متعین ہوں گے؛ فوری نفاذ کا دعویٰ درست نہیں ہوگا۔

لندن اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان کے 3 ارب ڈالر یورو بانڈ کی لسٹنگ
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

لندن اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان کے 3 ارب ڈالر یورو بانڈ کی لسٹنگ

وزیراعظم شہباز شریف نے 30 ستمبر 2026 کو لندن اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان کے 3 ارب ڈالر مالیت کے دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کی لسٹنگ کا باضابطہ افتتاح کیا اور اسٹاک ایکسچینج کا تجارتی سیشن کھولا۔ تقریب لندن میں اسٹاک ایکسچینج کے مرکزی دفتر میں ہوئی، جہاں وفاقی وزیر خزانہ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، پاکستان کے ہائی کمشنر اور لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو سمیت حکام موجود تھے۔ وزیراعظم نے عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے سرمایہ کاری کے امکانات اور پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔ حکومت نے اس لسٹنگ کو عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی قرار دیا؛ بانڈ کی مارکیٹ کارکردگی اور اس کے حقیقی مالی اثرات ثانوی مارکیٹ، شرح سود، بیرونی کھاتوں اور آئندہ سرمایہ کاری کے بہاؤ سے ظاہر ہوں گے۔

پاکستان: مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کے لیے اسٹریٹجک ایکشن پلان جاری (30 ستمبر 2026)
کاروبارمسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان: مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کے لیے اسٹریٹجک ایکشن پلان جاری (30 ستمبر 2026)

وفاقی حکومت نے مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کو گہرا، شفاف اور فعال بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک ایکشن پلان جاری کیا ہے۔ پلان کے تحت بینک صارفین کو بینک کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ سرکاری سیکیورٹیز (ٹریژری بلز اور بانڈز) خریدنے اور بیچنے کی سہولت دینے، پرائمری ڈیلر فریم ورک کا جائزہ، ثانوی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھانے، ریپو و سیکیورٹیز فنانسنگ ڈھانچے بہتر کرنے اور قانونی و ٹیکس رکاوٹیں کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ منصوبے میں اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور سنٹرل ڈپازٹری کمپنی کے کردار سامنے رکھے گئے ہیں۔ یہ اقدام آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی تشخیصی رپورٹ کی بنیاد پر اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 30 ستمبر تک کیے جانے والے اصلاحی اقدامات کے حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق مقصد سرمایہ کار بنیاد وسیع کرنا، سرکاری فنانسنگ کے اخراجات اور خطرات کم کرنا اور نجی شعبے کے لیے روپے میں طویل مدتی فنانسنگ کے مواقع پیدا کرنا ہے؛ تاہم عملی نتائج اصلاحات کے نفاذ اور سرمایہ کار شمولیت پر منحصر ہوں گے۔ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ جاری مذاکرات میں دیگر شعبوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور کامیاب جائزے کی صورت میں پاکستان کو دو پروگراموں کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسطوں کی توقع ہے، مگر حتمی منظوری آئی ایم ایف کے طریقہ کار اور ایگزیکٹو بورڈ پر منحصر ہے۔

واشنگٹن کی واضح کردہ پالیسی: کشمیر کو پاکستان-بھارت حل طلب تنازع سمجھا جاتا ہے
پاکستانمسلسل اپ ڈیٹس

واشنگٹن کی واضح کردہ پالیسی: کشمیر کو پاکستان-بھارت حل طلب تنازع سمجھا جاتا ہے

پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے اسلام آباد کو بتایا ہے کہ اس کی کشمیر سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ بدستور اس معاملے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب تنازع سمجھتا ہے۔ یہ وضاحت اس کے بعد سامنے آئی جب امریکی سفیر نے 19 اگست کو سری نگر کے دورے میں جموں و کشمیر کو بھارت کا اہم حصہ قرار دیا تھا، جس پر پاکستان نے تشویش ظاہر کی اور وضاحت طلب کی۔ امریکی حکام نے بتایا کہ موقف میں تبدیلی نہیں ہوئی؛ اس کے علاوہ امریکی صدر کی ماضی کی ثالثی یا مدد کی پیشکش کا حوالہ دیا گیا مگر کسی نئی ثالثی یا فوری مذاکرات کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں ہوا۔ پاکستانی رہنماؤں نے بھی اسی موقف کی تائید کی اور کہا کہ کشمیر کا پرامن حل جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ضروری ہے۔

امریکی افغانستان وار کمیشن کے وفد کی جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات
پاکستانمسلسل اپ ڈیٹس

امریکی افغانستان وار کمیشن کے وفد کی جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

راولپنڈی: امریکی افغانستان وار کمیشن کے شریک سربراہان شمیلہ این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کی قیادت میں ایک وفد نے 29 ستمبر 2026 کو جی ایچ کیو میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں امریکا کی 2001–2021 کی افغان جنگ کے جائزے، پاکستان کی جانب سے افغان تنازع کے دوران فراہم کردہ معاونت، خطے کی سلامتی اور افغانستان میں پیش رفت پر تبادلہ خیال ہوا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کے علاقائی اور عملی تجربات کو کمیشن کے جائزے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد نے پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو تسلیم کیا۔ ملاقات کے دوران کسی نئے دفاعی معاہدے یا فوری پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا؛ یہ رابطہ کمیشن کے تحقیقی و جائزہ جاتی عمل کے حصّے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔

پنجاب: 30 روزہ پابندی برائے کھلی جگہوں پر ڈرون اڑانا (29 ستمبر 2026)
پاکستان

پنجاب: 30 روزہ پابندی برائے کھلی جگہوں پر ڈرون اڑانا (29 ستمبر 2026)

پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے سکیورٹی خدشات کو بتاتے ہوئے صوبے بھر میں 29 ستمبر سے 30 روز کے لیے کھلی جگہوں پر آؤٹ ڈور ڈرون آپریشنز پر پابندی عائد کی۔ پابندی ضابطہ فوجداری دفعہ 144(6) کے تحت نافذ کی گئی ہے؛ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر بند مقامات پر محدود کورِیج کے لیے چھوٹے ڈرون استعمال کی اجازت ہے بشرطیکہ منتظمین محفوظ استعمال کی ذمہ داری قبول کریں۔ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سرکاری فرائض کے لیے مستثنیٰ ہیں اور تحقیقی، زرعی یا دیگر مخصوص استعمالات کے لیے تحریری اجازت ضلعی سیف ڈرون یوزیج کمیٹیوں کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ خلاف ورزی پر متعلقہ قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔

کوئٹہ: جناح پیپلز ٹرین سروس کا افتتاح، سریاب سے کچلاک تک 32 کلومیٹر روٹ بحال
پاکستانمسلسل اپ ڈیٹس

کوئٹہ: جناح پیپلز ٹرین سروس کا افتتاح، سریاب سے کچلاک تک 32 کلومیٹر روٹ بحال

29 ستمبر 2026 کو وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں جناح پیپلز ٹرین سروس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ بلوچستان حکومت اور پاکستان ریلوے نے سریاب اور کچلاک کے درمیان 32 کلومیٹر ریلوے ٹریک کی بحالی اور اپ گریڈ کا کام مکمل کیا، منصوبے کی لاگت تقریباً 3 ارب روپے بتائی گئی اور بحالی کا دورانیہ 120 دن بتایا گیا۔ روٹ میں سات اسٹیشن شامل ہیں جن میں کچلاک، بلیلی، شیخ ماندہ، جی او آر ہالٹ، کوئٹہ، لوراکریز ہالٹ اور سریاب شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت اسٹیشنوں پر انفراسٹرکچر اور مسافر سہولیات میں بہتری، نئے ٹرن ٹیبلز اور شمسی توانائی و برقی کام جیسے اپ گریڈ کیے گئے؛ کوچز پاکستان ریلوے کی کیرج فیکٹری اسلام آباد میں تیار کیے گئے۔

پاکستان: 15 اکتوبر 2026 سے مشین ریڈایبل پاسپورٹس کے اجرا کا خاتمہ، نئے درخواست گزاروں کو ای پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے
پاکستانمسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان: 15 اکتوبر 2026 سے مشین ریڈایبل پاسپورٹس کے اجرا کا خاتمہ، نئے درخواست گزاروں کو ای پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے

وزارت خارجہ کے سرکاری نوٹس کے مطابق پاکستان میں 15 اکتوبر 2026 سے مشین ریڈایبل پاسپورٹس (MRPs) کا نیا اجرا بند کر دیا جائے گا اور اس تاریخ کے بعد نئی درخواستوں پر صرف ای پاسپورٹس جاری کیے جائیں گے۔ پہلے سے جاری MRPs اپنی اصل میعاد ختم ہونے تک کارآمد رہیں گے۔ پاسپورٹ دفاتر اور بیرونِ ملک پاکستانی مشنز کو نئی درخواستوں کے لیے صرف ای پاسپورٹ جاری کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، شہریوں کو درخواست یا تجدید سے قبل متعلقہ دفتر/مشن سے تازہ ہدایات، فیس اور دستاویزی تقاضے چیک کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

پاکستانی فن ٹیک ’ابھی‘ اور یو اے ای کی نِم کارڈ کے درمیان ایس ایم ای کریڈٹ انفراسٹرکچر شراکت داری
ٹیکنالوجیمسلسل اپ ڈیٹس

پاکستانی فن ٹیک ’ابھی‘ اور یو اے ای کی نِم کارڈ کے درمیان ایس ایم ای کریڈٹ انفراسٹرکچر شراکت داری

پاکستانی ایمبیڈڈ فنانس کمپنی ’ابھی‘ نے متحدہ عرب امارات میں ادائیگیوں کا انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی نِم کارڈ کے ساتھ ٹیکنالوجی شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد ’ابھی‘ کے کاروباری مالیاتی حل کو نِم کارڈ کے کارڈ و ادائیگی انفراسٹرکچر سے ملانا ہے تاکہ یو اے ای کے بینکوں اور لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں کے لیے ایس ایم ای قرض کے درخواست سے ادائیگی تک کے مراحل زیادہ مربوط اور ڈیجیٹل کیے جا سکیں۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ ورک فلو میں آن بورڈنگ، قرض کی درخواست (origination)، کریڈٹ فیصلہ سازی اور منظوری کے بعد رقم کی تقسیم شامل ہو سکتی ہے، مگر شراکت داری خود کسی مخصوص قرض فنڈ، منجمد شرح یا فوری قرض کی تقسیم کا اعلان نہیں کرتی؛ قرض کی منظوری، شرائط اور ریگولیٹری تعمیل متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارے کے اختیار میں رہیں گے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج: مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں تین نئے ڈیبٹ انسٹرومنٹس کی فہرست اندازی
کاروبار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج: مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں تین نئے ڈیبٹ انسٹرومنٹس کی فہرست اندازی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 27.8 ارب روپے مالیت کے تین نئے ڈیبٹ انسٹرومنٹس اپنی ڈیٹ مارکیٹ میں لسٹ کیے۔ ان میں فیصل بینک کے 7 ارب روپے کے ریٹڈ، غیر ضمانتی ماتحت سکوک؛ بینک الفلاح کے 20 ارب روپے کے ریٹڈ، غیر ضمانتی ماتحت ٹائر-2 ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس؛ اور الطہور لمیٹڈ کے 80 کروڑ روپے کے ریٹڈ، ضمانتی سکوک شامل ہیں۔ پی ایس ایکس کے نوٹس کے مطابق تینوں کی ثانوی مارکیٹ ٹریڈنگ شروع ہو چکی ہے اور یہ انسٹیٹیوشنل خریداروں کو روایتی اور شریعہ کمپلائنٹ ڈھانچوں میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع فراہم کرتے ہیں۔

ایشین گیمز 2026، ناگویا: مردوں کے جیولن فائنل — رومیش پتھیراگے نے گولڈ، ارشد ندیم چوتھے
کھیل

ایشین گیمز 2026، ناگویا: مردوں کے جیولن فائنل — رومیش پتھیراگے نے گولڈ، ارشد ندیم چوتھے

28 ستمبر کو جاپان کے ناگویا میں ایشین گیمز کے مردوں کے جیولن فائنل میں سری لنکا کے رومیش پتھیراگے نے 88.55 میٹر کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا۔ بھارت کے یشویر سنگھ نے 85.72 میٹر سے چاندی اور روہت یادیو نے 84.35 میٹر سے کانسی حاصل کی۔ پاکستان کے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم نے سیزن کی بہترین 80.29 میٹر تھرو کی مگر چوتھے نمبر پر رہے اور میڈل حاصل نہ کر سکے؛ ان کے ہم وطن محمد یاسر نویں نمبر پر رہے (بہترین 73.50 میٹر). فائنل سخت بارش اور گیلی رن وے کی وجہ سے متاثر ہوا، نتائج ہر ایتھلیٹ کی منظور شدہ بہترین تھرو کی بنیاد پر حتمی کیے گئے۔

ایف بی آر: ایک ہی STRN کے تحت فیکٹری سے گودام تک اسٹاک ٹرانسفر کو قابلِ ٹیکس سپلائی قرار نہ دینے کی ہدایت
کاروبار

ایف بی آر: ایک ہی STRN کے تحت فیکٹری سے گودام تک اسٹاک ٹرانسفر کو قابلِ ٹیکس سپلائی قرار نہ دینے کی ہدایت

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 25 آف 2026 میں واضح کیا ہے کہ اگر ایک ہی رجسٹرڈ شخص کی فیکٹری سے اسی شخص کے گودام تک مال منتقل کیا جائے اور دونوں مقامات ایک ہی سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر (STRN) کے تحت ہوں تو یہ منتقلی قابلِ ٹیکس سپلائی نہیں سمجھی جائے گی۔ ایسی کھیپ کے لیے ڈیجیٹل/ای انوائس جاری کرنا ضروری نہیں البتہ غیر فِسکل مسلسل نمبر والا اسٹاک ٹرانسفر نوٹ لازماً ساتھ رکھا جائے گا، وصولی کی تصدیق اور اسٹاک رجسٹرز اپ ڈیٹ کیے جائیں گے اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھے جائیں گے۔ اگر وصول کنندہ مختلف STRN پر رجسٹرڈ ہو تو معمول کے سیلز ٹیکس اور انوائسنگ ضوابط لاگو ہوں گے۔